.

شامی فوج خانہ جنگی میں جیت رہی ہے: وزیر اعظم کا دعویٰ

دمشق اور وسطی شہر حمص کے درمیانی علاقے میں فوج اور باغیوں میں شدید لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وزیر اعظم وائل الحلقی نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری فوج باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں جیت رہی ہے اور وہ آخری دشمن جنگجو کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

انھوں نے یہ بات ہفتے کے روز تہران کے دورے کے موقع پر کہی ہے۔انھوں نے بھی دوسرے شامی عہدے داروں کی طرح صدر بشار الاسد کے استعفے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے اور کہا کہ دھمکیوں اور ڈرانے دھمکانے کا دور لد چکا اور اب یہ واپس نہیں آئے گا جبکہ اب شام میں فتح اور فخر کے دور کا ظہور ہو رہا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق وائل الحلقی نے ایران کے اول نائب صدر اسحاق جہا نگیری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''شامی حکومت اپنی سرزمین پر کسی ایک دہشت گرد کو بھی ٹھہرنے کی اجازت نہیں دے گی''۔

اسحاق جہانگیری نے جواب میں کہا کہ''ایران شام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور وہ برائی کی جارح قوتوں کے ساتھ اس کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھے گا''۔واضح رہے کہ ایران شامی صدر کی ہرطرح سے مدد وحمایت کررہا ہے اور اس کے تربیت یافتہ کمانڈوز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور عراقی اہل تشیع کے شانہ بشانہ شامی فوج کے ساتھ مل کر باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

شامی فوج کی بمباری

درایں اثناء شامی فوج نے دارالحکومت دمشق سے شمال میں واقع علاقے میں باغی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔شامی فوج اور اس کی اتحادی حزب اللہ کے جنگجو قلمون کے پہاڑی علاقے میں باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

شامی کارکنان کی اطلاع کے مطابق جنگی طیاروں نے دمشق اور وسطی شہر حمص کے درمیان مرکزی شاہراہ پر واقع قصبے نبک پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے تین باغی جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔یہ علاقہ حکومی کنٹرول سے باہر بتایا جاتا ہے۔

سانا کا کہنا ہے کہ فوج نے نبک اور اس کے نواحی علاقوں میں متعدد دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا ہے اور اس نے دارالحکومت سے مشرق میں واقع دیہی اور شہری علاقے میں بھی پیش قدمی کی ہے۔مشرقی غوطہ کے نام سے معروف اس علاقے میں فریقین کے درمیان گذشتہ چند روز سے جاری لڑائی میں دونوں طرف سے بیسیوں افراد مارے گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق جمعرات سے ہفتے کی شام تک شام کے مختلف علاقوں میں جھڑپوں میں چار سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر مشرقی غوطہ اور قلمون میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔ادھر لبنان میں سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس تازہ لڑائی میں حزب اللہ کے پچیس جنگجو بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

آبزرویٹری نے عیسائی آبادی والے قدیم قصبے ملولا میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز اور القاعدہ سے وابستہ شامی تنظیم النصرت محاذ کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کی بھی اطلاع دی ہے۔