.

شامی فوج کو جنگی معاونت فراہم کرنے والا روسی سپاہی ہلاک

جیش الحر نے سیف الدولہ کالونی میں سرکاری فوج کے داخلے کی کوشش ناکام بنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی شہر حلب میں سرکاری فوج کے خلاف برسرپیکار 'انقلابیوں' نے ایک روسی فوجی کی تصویر شائع کی ہے جو مبینہ طور پر بشار نواز فوج کے ساتھ باغیوں کی جھڑپوں میں ہلاک ہوا۔

ادھر دمشق کے نواح اور القلمون کے علاقے النبک میں جیش الحر، سرکاری فوج اور حزب اللہ ملیشیا کے درمیان لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ انسانی حقوق کارکنوں کے مطابق بشار الاسد کی فوج نے ان علاقوں پر میزائل اور توپخانے سے اپنے حملہ جاری رکھا۔ باغی جنگجووں نے بشار الاسد فوجیوں کی سیف الدولہ کالونی اور دوسرے علاقوں میں پیش قدمی کی کوشش ناکام بنا دی۔

حلب میڈیا سینٹر کے مطابق باغیوں کے خلاف بشار الاسد فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے روسی فوجی کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ماسکو باغیوں کو میدان جنگ میں اسلحہ سے لیکر افرادی قوت تک فراہم کر رہا ہے۔

میڈیا سینٹر نے مرنے والے روسی فوجی ایلکسے مالیئوتا کے سروس کارڈ کی تصویر بھی ذرائع ابلاغ کو ارسال کی ہے تاکہ وہ اپنے طور پر براہ راست اس کی شام میں ہلاکت کے اسباب اور محرکات جان سکیں۔ حلب میڈیا سینٹر کے مطابق روسی فوجی باغیوں کے خلاف شامی فوجی دستوں کے ساتھ ملکر لڑائی میں شریک تھا کہ شہر کے جنوب میں واقع نواحی علاقے السخنہ میں ہونے والی لڑائی میں مارا گیا۔

ادھر ہفتے کے روز حلب ہی کی ایک شمالی گورنری کے داخلی راستے پر شامی فوج کی گولا باری میں سات خواتین، ایک بچی سمیت بیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس امر کی تصدیق انسانی حقوق کی آبزرویٹری نے اپنے ایک اعلامئے میں کی تھی۔ آبزرویٹری کے مطابق سرکاری ہیلی کاپٹروں نے شہر پر بارود چھڑکا جس کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'یو ٹیوب' پر حملے کی بعد بنائی گئی ویڈیو میں افراتفری کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ویڈیو میں دو افراد کو ایک سرخ رنگ کے تقریبا تباہ شدہ کینٹرز کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے، اسی کوشش کے دوران ایک شخص فضائی حملے کی زد میں آ کر ہلاک ہوتا ہے جبکہ دوسرا سائیکل سے گر کر زمین پر پڑا تھا۔