.

تعصبات کا خاتمہ عربوں کی کوشش سے ممکن ہو گا: شہزادی ریم

'احمقانہ جہالت کو شکست دے کر عرب اپنی ساکھ بہتر کر سکے ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے دارلحکومت عمان میں قائم اردن میڈیا انسٹی ٹیوٹ کی بانی شہزادی ریم علی نے عربوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بارے میں روا رکھے جانے والے مغربی دنیا کے تعصبات کا خاتمہ کرنے کے لئے خود آگے آئیں کیونکہ مشرق وسطی کے بارے میں 'روایتی منفی سوچ' ختم کرنا مغرب کی ذمہ داری نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے 'العربیہ' انگلش ویب سائٹ کے از سر نو اجرا اور خطے کے اہم سیٹلائیٹ نیوز چینل العربیہ کے دسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

شہزادی ریم کا کہنا تھا کہ "مجھے ہالی وڈ کی فلموں میں عربوں کے بارے میں پیش کئے جانے والے گھسے پٹے تاثر اور مغربی دنیا کے بعض ذرائع ابلاغ میں عربوں یا عرب امور کی رپورٹنگ کے دوران سامنے آنے والے تعصبات کا بخوبی علم ہے۔"

"مجھ سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ ہماری شہرت کو داغدار کیوں کیا جاتا ہے تو میں استفسار کرتی ہوں کہ ہماری ساکھ بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا اپنی ساکھ بہتر بنانا ہماری ذمہ داری نہیں؟ ہم مغرب سے اس بات کی توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ ہماری لڑائی لڑے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطی کے باسیوں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ان کے خلاف کوئی "منظم منصوبہ" بندی کی جا رہی ہے۔

"میرا تجربہ ہے کہ ہم اپنے بارے میں یا تو انتہائی معصومیت کا شکار ہیں یا پھر ہمیں اپنے بارے میں احمقانہ جہالت کا سامنا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں کو اپنے بارے میں بتائیں تاکہ وہ ہمارے بارے میں گھسی پٹی سوچ کا شکار نہ ہو سکیں۔"

دبئی کے برج الخلیفہ میں واقع ارمانی ہوٹل میں ہونے والی گلوبل ڈسکشن میں شرکت کے بعد منعقدہ خصوصی گالا ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے شہزادی ریم علی نے العربیہ نیوز چینل کو اپنی انگریزی ویب سائٹ کی از سر نو اجراء پر مبارکباد پیش کی۔ "ویب سائٹ میں ترجمے کی نئی ٹکنالوجی کی مدد سے عربی پروگراموں اور نیوز بلیٹنز کی انگریزی سب ٹائیٹلز کے ساتھ پیشکش سے مشرق وسطی کے بارے میں آگاہی بڑھانے کا سبب بنے گی۔"

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر عبدالرحمان الراشد نے کہا کہ انگریزی ویب سائٹ پر عربی پروگراموں اور خبروں کی انگریزی سب ٹائیٹل کے ساتھ موجودگی سے 'ایک دوسرے کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا جس سے مغرب کو عرب دنیا کے بارے میں بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا۔

ویڈیو ترجمہ کی سہولت سے مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والے ناظرین انہی خبروں سے استفادہ کر سکیں گے جو عرب جمہور کے لئے ان کی اپنی زبانی عربی میں پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ عرب ناظرین کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ العربیہ نیوز چینل مغربی ناظرین کے لئے ہے لیکن ویڈیو ترجمے کے بعد اس سوچ میں تبدیلی لانا ہو گی۔

عبدالرحمان الراشد نے دس برس قبل العربیہ کے آغاز سے لیکر ابتک چینل کی ترویج و ترقی کے لئے ایم بی سی گروپ کے چیئرمین ولید الابراہیم کی زیرک قیادت اور ان پر اعتماد کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دس برس العربیہ ٹیم نے انتہائی محنت کی۔ اس دوران ہم نے خون، پسینا اور شب و روز کی محنت سے العربیہ کو آج ایک کامیاب اسٹیشن بنایا ہے۔ اس سفر میں چینل سے وابستہ افراد خود پر ہونے والے حملوں سے گھبرائے نہیں۔ ہم نے جان کا نذرانہ پیش کر کے العربیہ کو اپنے لہو سے سینچا ہے۔"

العربیہ انگلش کے ایڈیٹر انچیف فیصل جے عباس نے مہمانوں کی آمد اور العربیہ انگلش کا نیا لے آوٹ تیار کرنے میں مدد کرنے والی اپنی، ڈیجیٹل پروڈکشن اور ویب ڈپولپمنٹ کمپنی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔