.

اراضی ہتھیانے کی اسرائیلی کوششوں پر فلسطینی بدو چراغ پا

پراور اسکیم کے تحت اسرائیل نقب میں لاکھوں ایکٹر زمین پر قبضہ چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] کی جانب سے فلسطینیوں کی اراضی غصب کرنے سے متعلق پر اور نامی اسکیم کی ایوان سے منظوری کے بعد فلسطینیوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ متنازعہ "پراور قانون" کی منظوری کے خلاف فلسطینی عوام میں سخت غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی جس کے اظہار کے لئے فلسطین میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ شمالی اور جنوبی فلسطین کے شہروں، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں ہزاروں فلسطینیوں نے اس قانون کے خلاف ریلیاں نکالیں اور احتجاجی مظاہریے کیے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی رکن پارلیمنٹ پراور بیگن کی تیارکردہ اسکیم کے تحت جزیرہ نما النقب کے دسیوں فلسطینیوں دیہاتوں کی کم سے کم آٹھ لاکھ ایکڑاراضی پر اسرائیل قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ان علاقوں کی فلسطینی عرب آبادی کو صرف ایک چھوٹے سے قصبے تک محدود کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جبکہ فلسطینی عوام اس کے خلاف مسلسل پرامن مزاحمت کر رہے ہیں۔

ہفتے کے روز مغربی کنارے، شمالی فلسطین، جزیرہ نما النقب اور بیت المقدس میں گلی گلی احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ فلسطینیوں نے اسرائیل کی "پراور اسکیم" کو مسترد کرتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کے تعاون سے گزشتہ روز ہونے والے احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ جزیرہ نما النقب سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی یہودی توسیع پسندی کی بدترین شکل ہے۔ اسرائیل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور گھربارسےمحروم کرکے مزید یہودیوں کو آبادکرنا چاہتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ سنہ 1948ء کے دوران اسرائیلی قبضے میں جانے والے علاقے جزیرہ نقب کی فلسطینی عرب آبادی کو اسرائیل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ اسرائیل کی ملکیت ہے لیکن یہاں پر آباد فلسطینیوں کو یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ خانہ بدوش ہیں جنہیں مستقل آبادی قرار نہیں دیا سکتا۔ اسرائیل کا یہ دعویٰ بھی قطعا بے بنیاد ہے۔ جزیرہ نما نقب میں سکونت پذیر فلسطینی صدیوں سے اسی جگہ ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغربی کنارے میں گذشتہ روز ہونے والے مظاہروں میں فلسطینی شہریوں اور قابض صہیونی فوج کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ قابض فوج کے لاٹھی چارج اور تشدد کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی اور کئی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رام اللہ کے قریب مشتعل مظاہرین نے ایک یہودی کالونی پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تاہم اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو یہودی بستی سے دور ہٹا دیا۔