.

چار خلیجی ریاستیں رواں ماہ مشترکہ کرنسی کے اجراء پر متفق

متحدہ عرب امارات اور عمان فی الحال اسکیم سے باہر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاستوں میں ویزہ پابندیوں کے خاتمے، مشترکہ پولیس فورس اور ایمرجنسی کنٹرول روم کے قیام پر اتفاق کے بعد بتدریج مشترکہ کرنسی شروع کئے جانے کی طرف بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چار خلیجی ریاستیں رواں ماہ کے آخر تک مشترکہ کرنسی جاری کرنے پرمتفق ہو چکی ہیں، تاہم ان میں متحدہ عرب امارات اور سلطنت آف عمان شامل نہیں ہیں۔

خلیجی ریاستوں کے فیصلہ ساز حلقوں سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بحرینی اخبار کو بتایا کہ چاروں خلیجی ملکوں نے "ڈالر" کو مشترکہ کرنسی کے طور پر قبول کیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاروں خلیجی ملکوں کا مشترکہ کرنسی لانے کا فیصلہ اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مشترکہ کرنسی کے لیے ڈالر کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ خلیجی ممالک کی پٹرولیم مصنوعات سمیت درآمدات و برآمدات کے لین دین کا ایک وافر حصہ یورپی منڈی اور امریکا سے کیا جاتا ہے۔ ذرائع نے متحدہ عرب امارات اور سلطنت عمان کی جانب سے مشترکہ کرنسی کی اسکیم میں فوری شمولیت اختیار نہ کرنے کے اسباب بیان کرنے سے گریز کیا تاہم بتایا کہ بعض خلیجی ممالک آزادنہ طور پر اپنی ملکی کرنسی ہی میں عالمی برادری سے تجارت کو ترجیح دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق خلیجی ملکوں کی کرنسی کو عالمی اہمیت نہ ملنے کے باعث "جی سی سی" کو مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیج تعاون کونسل اپنے رکن ممالک کی کرنسی کوعالمی معیار پرلانے کے لیے کوشاں ہے۔ ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک نقد رقوم کے عالمی معیار کے محفوظ ذخائر رکھنے والے ملکوں میں بھی شامل نہیں ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی کرنسی کے مجموعی طور پر 10.2 ٹریلین ڈالر نقد رقم کی شکل میں محفوظ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان میں چین 3.3 ٹریلین کے ساتھ پہلے، جاپان 1.27 ٹریلین کے ساتھ دوسرے، روس537 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے، سوئٹزر لینڈ 531 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے، برازیل 373 ارب ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ ان ملکوں کے علاوہ کوریا، ہانگ کانگ، بھارت، سینگاپور، جرمنی، فرانس، اٹلی، تھائی لینڈ، میکسیکو اور امریکا بھی محفوظ عالمی کرنسی رکھنے والے ملکوں میں شامل ہیں۔ ان میں کسی خلیجی ریاست کا نام شامل نہیں ہے۔