.

بشارالاسد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں:اقوام متحدہ

شام میں گذشتہ 33ماہ سے جاری خانہ جنگی میں 1 لاکھ 26 ہزار افراد مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مس نیوی پیلے نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد سمیت حکومتی عہدے دار انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم میں ملوّث ہیں اور ان کے خلاف وافر ثبوت موجود ہیں۔

مس نیوی پلے نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ'' شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے والے اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے بہت سنگین جرائم ،جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے بھاری ثبوت پیش کیے ہیں اور ان جرائم کی ذمے داری سربراہ ریاست سمیت حکومت کی اعلیٰ سطح تک ارباب اقتدار پرعاید ہوتی ہے''۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نے کہا کہ شام کے مشتبہ مجرموں کی فہرستیں سربہ مہر کردی گئی ہیں اور ان کے دفتر میں تالے میں پڑی ہیں اور انھیں عالمی یا قومی حکام کی درخواست تک سربہ مہر ہی رکھا جائے گا۔انھوں نے شام کے حوالے سے کہا کہ اس کے دونوں فریقوں سے تعلق رکھنے والے عناصر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوّث ہیں۔

درایں اثناء برطانیہ میں قائم شامی آبزوریٹری برائے انسانی حقوق نے شام میں گذشتہ تینتیس ماہ سے جاری خانہ جنگی کے دوران فریقین کی ہونے والی ہلاکتوں کے نئے اعدادوشمار جاری کیے ہیں اور بتایا ہے کہ اب تک ایک لاکھ چھبیس ہزار افراد مارے جاچکے ہیں۔

شامی آبزرویٹری کے کارکنان ،رضاکار ڈاکٹروں ،وکلاء اور ہمدرد سرکاری حکام کا خانہ جنگی کا شکار ملک میں ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے اور وہ انھی کی فراہم کردہ معلومات واطلاعات کی بنیاد پر ہلاکتوں کے اعدادوشمار جاری کرتی ہے۔

اس تنظیم نے بتایا ہے کہ اس کے پاس یکم دسمبر تک 125835 ہلاکتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ان مہلوکین میں 44381 عام شہری ہیں۔ان میں 6627 بچے اور 4454 خواتین شامل ہیں۔خانہ جنگی میں مارے گئے حزب اختلاف کے جنگجوؤں کی تعداد 27746 ہے اور ان میں 19 ہزار شامی شہری ہیں جو صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف مسلح لڑائی میں شریک رہے تھے۔

شامی حزب اختلاف کی ہلاکتوں میں 2221 منحرف فوجی اور 6261 غیر شامی جنگجو شامل ہیں جو دوسرے ممالک سے شامی باغیوں کے شانہ بشانہ اسدی فوج کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے آئے تھے۔

آبزرویٹری کے مطابق باغیوں کے ساتھ لڑائی میں اسد حکومت کے دفاع میں لڑنے والی سرکاری فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں کا دُگنا جانی نقصان ہوا ہے اور شامی فوج اور اس کے ساتھ مل کر لڑنے والی حزب اللہ اور دوسری شیعہ ملیشیاؤں کی ہلاکتوں کی تعداد 50927 ہوچکی ہے۔

ان میں 31174 فوجی ہیں اور شامی فوج کے حمایتی مسلح گروپوں کے ہلاک شدگان کی تعداد 19256 ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے لبنان کی شیعہ ملیشیا کے 232 جنگجوؤں کی شام میں ہلاکت کا بھی پتا چلا ہے۔تاہم اس کو 2781 مہلوکین کی شناخت کے بارے میں کوئی پتا نہیں چل سکا۔

آبزرویٹری نے شام میں جاری خونریزی رکوانے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری کو صرف شام کے کیمیائی ہتھیار تباہ کرنے پر ہی توجہ مرکوز نہیں کرنی چاہیے بلکہ شامی فوج کی فضائی بمباری اور توپ خانے سے ہونے والی ہلاکتوں کو بھی روکنا چاہیے کیونکہ دمشق کے نواح میں اگست میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد سے ہزاروں افراد دوسرے ہتھیاروں سے مارے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ یا اس کے تحت عالمی ادارے باقاعدگی سے شام میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار جاری نہیں کرتے ہیں۔اقوام متحدہ نے چند ماہ قبل شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ بتائی تھی۔اب تک ان اعدادوشمار پر نظرثانی نہیں کی گئی ہے۔