.

دوسری جنیوا کانفرنس میں شامی وفد کی شرکت علامتی رہے گی

فیصلے کا حتمی اختیار بدستور بشار الاسد کے پاس رہے گا: شام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی وزارت خارجہ کے ایک اہم عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہٓ ملک میں جاری خانہ جنگی روکنے کے طریقوں پر غور کے لئے دوسری جینوا کانفرنس میں شرکت کے لیے جانے والا سرکاری وفد "بے اختیار" ہو گا اور فیصلہ سازی کا حتمی اختیار صدر بشارالاسد ہی کے پاس رہے گا۔

دمشق کا مذاکراتی وفد اپوزیشن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں صدر اسد کو آگاہ کرے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ صدر کریں گے۔ شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے صحافیوں کو بتایا کہ بشار الاسد کی منشاء کے خلاف دوسری جنیوا کانفرنس کا کوئی فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں اپوزیشن کے ساتھ جو معاملہ طے پائے گا صدر کی جانب سے اس کی حمایت ضروری ہو گی۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شامی نائب وزیر خارجہ کا بیان "جنیوا 2" کی کامیابی کے امکانات مخدوش کرنے کی کوشش ہے۔ مبصرین پہلے اس اجلاس کی کامیابی پر شبہات کا اظہار کر چکے ہیں۔ خاص طور پر شامی صدر بشار الاسد کی جانب سے جب یہ بیان سامنے آیا کہ وہ اقتدار باغیوں کو منتقل کرنے جنیوا اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس بیان کے بعد "جنیوا 2" کی کامیابی سے متعلق شکوک میں اضافہ ہوگیا ہے۔ شامی مسئلے کے حل کی خاطر دوسری جنیوا کانفرنس کے لیے 22 جنوری 2014ء کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اجلاس کی پیشگی تیاریوں کے سلسلے میں امریکا، روس اور شام سے متعلق امن مندوب الاخضر ابراہیمی 20 دسمبر کو ایک اہم اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ اجلاس میں شامی بحران کے حل کے لیے مجوزہ جنیوا 2 کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ مجوزہ کانفرنس کو شامی تنازع کے حل کےحوالے سے اہم ترین سمجھا جا رہا ہے۔

مغربی سفارتی ذرائع کے مطابق جنیوا کنونشن کے دوران اقوام متحدہ کے امن مندوب الاخضر الابراہیمی اور امریکی ایلچی جیفری فیلٹمن فریقین سے پہلے الگ الگ بند کمرہ ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں فریقین کا موقف سننے کے بعد اسے فریق ثانی تک پہنچایا جائے گا۔ دو طرفہ پیغامات کے تبادلے کے بعد آخر میں شامی اپوزیشن اور حکومتی وفد کی براہ راست ملاقات کرائی جائے گی۔ اس ملاقات میں بھی عالمی امن مندوب موجود رہیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے عبوری نیشنل کونسل کے چیئرمین احمد الجربا یا ریاض سیف جبکہ حکومت کی جانب سے وزیر خارجہ ولید المعلم شریک ہوسکتے ہیں۔ فریقین میں براہ راست ملاقات جنیوا اجلاس کے دوسرے روز ہوگی۔