.

لبنان:طرابلس میں سکیورٹی کی ذمے داری فوج کے حوالے

فوج شہر میں کشیدگی پر قابو پانے کے لیے 6 ماہ تک تعینات رہے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی حکومت نے ساحلی شہر طرابلس میں اہل سنت اور علوی اہل تشیع کے درمیان جاری مسلح کشیدگی پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی کی ذمے داری فوج کو سونپ دی ہے اور فوج وہاں چھے ماہ تک تعینات رہے گی۔

لبنان کے نگران وزیراعظم نجیب میقاتی نے ایل بی سی ٹیلی ویژن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''انھوں نے صدر مائیکل سلیمان اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل جین قہواجی کے ساتھ طرابلس کو چھے ماہ کے لیے مکمل طور پر فوج کی نگرانی میں دینے سے اتفاق کیا ہے''۔

بعد میں انھوں نے ٹویٹر پر اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ طرابلس ایک فوجی علاقے میں تبدیل نہیں ہوگا بلکہ اس اقدام کا مقصد شہر کو محفوظ بنانا ہے۔

لبنانی حکومت نے طرابلس کو فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ اہل سنت اور علویوں کے مسلح جنگجوؤں کے درمیان حالیہ لڑائی کے بعد کیا ہے۔ہفتے اور اتوار کو اس لڑائی میں دس افراد ہلاک اور دس فوجیوں سمیت پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

طرابلس میں یہ تازہ لڑائی پڑوسی ملک شام کے صدر بشارالاسد اور ان کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی حمایت اور مخالفت کی بنا پر شروع ہوئی تھی۔لبنان کے اہل سنت شام کے باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحرکی حمایت کر رہے ہیں جبکہ علوی اپنے ہم مذہب صدر بشارالاسد کے حامی ہیں۔لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ شامی صدر کی حمایت میں باغیوں کے خلاف جنگ میں شریک ہے۔

شہر میں گذشتہ جمعرات سے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان کشیدگی پائی جارہی تھی اور اس کا آغاز علویوں کی آبادی والے علاقے جبل محسن کے مکینوں کی جانب سے صدر بشارالاسد کی حمایت میں شامی پرچم آویزاں کرنے سے ہوا تھا۔اس کے ردعمل میں اہل سنت کے علاقے باب التبانہ کے مکینوں نے شامی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے باغی جنگجوؤں کے پرچم آویزاں کردیے تھے۔

شام کی سرحد سے بیس میل دور واقع اس شہر میں باب التبانة اور جبل محسن کے مکینوں کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پرماضی میں بھی خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔اس ساحلی شہرمیں اگست میں دو بم دھماکوں میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ گذشتہ گیارہ ماہ کے دوران طرابلس میں تشدد کے واقعات میں ایک سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

یادرہے کہ طرابلس کی 80 فی صد آبادی اہل سنت پر مشتمل ہے۔شیعہ علویوں کی تعداد 11 فی صد ہے۔ان دونوں کے درمیان 1975ء سے 1990 تک جاری رہی خانہ جنگی کے دوران بھی جھڑپیں ہوتی رہی تھیں لیکن شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے بعد سے ان دونوں متحارب گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے مسلح تصادم کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے لبنان کے دوسرے علاقوں میں بھی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔گذشتہ روز لبنان کی مشرقی وادی بقاع میں واقع ایک گاؤں قصر نبا کے مکینوں نے ایک معمولی واقعے کی بنا پر شامی مہاجرین کے بعض خیموں کو نذرآتش کردیا جس کے بعد وہاں مقیم بیشتر شامی مہاجرین کو رات کھلے آسمان تلے گزارنا پڑی۔اس گاؤں کے مکینوں نے وہاں سے شامی مہاجرین کو نکالنے کی بھی کوشش کی ہے۔