.

لیبیا: بن غازی میں ایک اور فوجی افسر ہلاک، بیٹا زخمی

شہریوں کا مسلح ملیشیا کیخلاف احتجاج، فوج کی تعیناتی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان کئی روز تک تصادم کا مرکز بنا رہنے والے شہر بن غازی میں آگ ٹھنڈی نہ ہو سکی۔ عسکریت پسندوں نے مبینہ طور پر ایک اور فوجی افسر کو ہلاک کر دیا ہے۔

بن غازی کے مشرق میں واقع شہر دیما جسے اسلامی عسکریت پسندوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے میں درجنوں افراد نے شہر کی سڑکیں بلاک کر دیں، ٹائروں کو آگ لگا دی اور امن قائم کرنے کے اپنے مطالبے کے حق میں ہڑتال کی اپیل کی۔

بن غازی شہر جہاں تقریبا ہر روز سکیورٹی فورسز پر حملے ہو رہے ہیں کا مشرقی حصہ بطور خاص بدامنی کا شکار ہے۔ جہاں مسلح ملیشیا اپنے اثر کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بن غازی میں سکیورٹی فورسز کے ترجمان ابراہیم الشرا نے اس علاقے میں فوجی افسر کی ہلاکت کے واقعے کے بارے میں بتایا'' نامعلوم مسلح افراد نے صلاح فراج الدرسی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے سترہ سالہ بیٹے کے ساتھ جا رہے تھے۔ اس واقعے میں فوجی افسر کا بیٹا بھی زخمی ہو گیا۔''

مقامی ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ''فوجی افسر صلاح فراج الدرسی کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے جبکہ ان کے بیٹے کی جان بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔''

واضح رہے بن غازی میں حالیہ دنوں میں فوج کے پھوٹنے والے تصادم میں اہم کردار اسلامی عسکریت انصار الشرعیہ نامی گروپ کا ہے۔ جسے کافی مضبوط سمجھا جاتا ہے۔

بن غازی سے متصل شہر دیما میں عسکری ملیشیا کے خلاف شہریوں کے احتجاج جیسے واقعات پہلے دارالحکومت طرابلس اور بن غازی میں بھی پیش آ چکے ہیں۔ جن کے بعد تصادم میں تیزی آ گئی تھی۔

عسکری ملیشیا کے خلاف متحرک شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے قیام امن کیلیے فوج تعینات نہیں کی تو وہ سول نافرمانی شروع کر دیں گے۔ ذرائع کے مطابق شہریوں کا دیما میں احجاج اس وقت سامنے آیا ہےجب ایک عسکری گروپ کی ابو بکر صدیق بریگیڈ نے شہریوں کو مساجد میں پوسٹر لگا کر دھمکیا ں دیں۔