.

مصر: مرسی کے حامی شہری لاپتہ ہونے کا انکشاف

ہیومن رائیٹس واچ نے لاپتہ شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں احتجاجی مظاہروں کیلیے بنائے گئے نئے قوانین، خواتین کو ٹریفک میں خلل ڈالنے پر قید کے بعد شہریوں کو بغیر مقدمات کے لاپتہ کرنے کا بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے نو ٹس لے لیا ہے۔ مصر میں شہریوں کو لاپتہ کرنے کا یہ پہلا انکشاف ہے۔

ان پانچ زیر حراست شہریوں میں ایصام الحداد، ایمان علی، عبدالمجاہد، خالد القزاز اور ایما الصرافی شامل ہیں۔ انہیں مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاون کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

reuters

واضح رہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایچ آر ڈبلیو کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کو نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔ جبکہ انہیں قانون کے مطابق کسی عدالت میں بھی پیش نہیں کیا گیا ہے۔

ہیومن رائیٹس واچ کا اس بارے میں موقف ہے کہ '' یہ کس طرح کا جمہوری روڈ میپ ہے کہ عبوری حکومت نے 150 دن گذرنے کے باوجود شہریوں کو مقدمے کے بغیر حراست میں رکھا ہے۔''

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق '' طاقت کی بنیاد پر لوگوں کو غائب کیا جانا اس امر کی غمازی نہیں کرتا کہ موجودہ حکومت قانون کی بالا دستی پر یقین نہیں رکھتی ہے۔''

لاپتہ خالد القزاز کی اہلیہ کا حوالہ دیتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ مصری فوج نے پانچوں شہریوں کو ایک سیل میں رکھا ہے اور انہیں اس سیل سے محض ایک آدھ گھنٹے کیلیے باہر نکالا جاتا۔

زیر حراست افراد کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ عبوری حکومت ان افراد کی حراست کو آئندہ دنوں اخوان المسلمون کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلیے استعمال کر سکتی ہے۔

واضح رہے صدر مرسی کے ایک ہزار سے زائد حامیوں کو 3 جولائی کے بعد قتل کیا جا چکا ہے جبکہ ہزاروں حامیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔