.

معاشی مشکلات ،غزہ میں حماس کی سالانہ ریلی منسوخ

یوم تاسیس کے لیے مختص رقوم محصور فلسطینیوں پر صرف کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس نے اپنے زیرنگیں علاقے میں لوگوں کو درپیش معاشی مشکلات کے پیش نظر اتوار کو نکالی جانے والی سالانہ ریلی منسوخ کردی ہے۔

گذشتہ چھے سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ حماس نے اپنے یوم تاسیس کے سلسلہ میں تقریبات کو منسوخ کیا ہے۔ورنہ وہ دسمبر 1987ء میں اپنے قیام کے بعد سے ہر سال فوجی پریڈ اور دیگر اجتماعات منعقد کرتی چلی آرہی تھی اور ان میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے تھے۔

حماس کی حکومت پڑوسی ملک مصر میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی میں برطرفی کے بعد سے معاشی طور پر شدید مشکلات سے دوچار ہوئی ہے۔ڈاکٹر مرسی کی حکومت حماس کی حمایت کرتی رہی تھی لیکن ان کے بعد مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم حکومت نے غزہ اور جزیرہ نما سینا کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں سخت پابندیاں عاید کردی ہیں اور اس نے اس علاقے میں قائم زیرزمین سرنگوں کو بھی تباہ کردیا ہے۔ان سرنگوں سے اسمگل ہوکر غزہ جانے والا مال واسباب بھی حماس کی حکومت کے لیے ایک بڑا معاشی سہارا تھا۔

حماس کے ایک عہدے دار اشرف ابوزید کا کہنا ہے کہ یوم تاسیس کے سلسلہ میں تقاریب کے لیے مختص فنڈز اب فلسطینی عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور ریلی کو منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی اہل غزہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اسرائیلی قبضے سے آزادی کے لیے جنگ کی تیاریاں جاری رکھے گی اور اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

مصر کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحدی علاقے میں کریک ڈاؤن سے ہی غزہ کی معیشت زبوں حالی کا شکار نہیں ہوئی ہے بلکہ اسرائیل کے گذشتہ چھے سال سے جاری محاصرے اور نئی قدغنوں سے بھی اس کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

غزہ میں ایندھن کی قلت کی وجہ سے بجلی منقطع ہوکر رہ گئی ہے اور اس سے تعمیراتی صنعت بھی ٹھپ ہوچکی ہے جو فلسطینیوں کے لیے روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ تھی۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق مصر کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں سرنگوں کی بندش سے غزہ کی پٹی میں بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس وقت قریباً تیس فی صد اہل غزہ بے روزگار ہیں۔اس علاقے کی کل قریباً سترہ لاکھ آبادی میں سے نصف کو اقوام متحدہ کی فلسطینی مہاجرین کی امداد کے لیے کام کرنے والی ایجنسی انروا کی جانب سے خوراک کی شکل میں امداد مہیا کی جاتی ہے۔