''خبریں لیک نہیں کرتے، عرب شہری ہماری حکومت کیلیے اہم ہیں''

مشرق وسطی کیلیے امریکی اور برطانوی ترجمانوں کی ''العربیہ'' سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مشرق وسطی کیلیے امریکا اور برطانیہ کے ترجمان کہتے ہیں کہ ان کا کام مختلف خبروں کو موقع بہ موقع میڈیا کے سامنے لیک کرنا نہیں ہے، البتہ اپنی بات پہنچانے کیلیے ہم ہر طریقہ بروئے کار لاتے ہیں۔

برطانیہ اور دولت مشترکہ کی علاقائی ترجمان روز میری ڈیوس اور امریکی ترجمان جوشا بیکر نے '' العربیہ '' کے نیوز پینل کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا ہے۔ یہ مکالمے کا اہتمام'' العربیہ '' کی دسویں سالگرہ اور العربیہ انگلش کی ویب سائٹ کی ازسر نو لانچنگ کے موقع پر کیا گیا تھا۔

روز میری ڈیوس نے کہا '' خبروں کو لیک کرنا میری ذمہ داری کا حصہ نہیں ہے ، لیکن یہ بات واضح ہے کہ ہم ان تمام وسائل کو بروئے کار لانے کیلیے استعمال کرتے ہیں جو ہماری خبروں کو سامنے لانے کیلیے ضروری ہوتے ہیں۔''

عرب ذرائع ابلاغ کے ساتھ بہت قریبی رابطوں کے ذریعے ہم عام عرب شہریوں کو انوالو کرنا چاہتے ہیں، جن کا گلی محلے کی سطح سے تعلق ہوتا ہے ان کی اہمیت ہماری حکومت اور اداروں کے لیے بڑھ رہی ہے۔''

اس بارے میں امریکی ترجمان جوشا بیکر نے کہا ''میں نہیں سمجھتا کہ ہم اپنا کام کرتے ہیں یا ہمارا پیغام ہر جگہ پہنچتا ہے تو اسے خبروں کی لیکیج کہا جائَے گا، ہم تو اپنا کام کرتے ہیں۔''

انہوں نے مزید کہا ''یہ تو نیٹ ورک کی صلاحیت ہے۔'' انہوں نے مزید کہا '' یہ نیٹ ورک کی صلاحیت ہے کہ ہمارے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ ہم مشکل فون کر سکتے ہیں اور مخصوص وقتوں پر مخصوص لوگوں کی فون کالز سن پاتے ہیں۔''

'' العربیہ" کے اس مکالمے کے موقع پر مشرق وسطی اور مغربی دنیا کے درمیان معاملات کے دوطرفہ ادراک اور تفہیم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس نکتے پر پینل کی گفتگو بھی ممکن ہوئِی کہ کیا مغربی دنیا مشرق وسطی کے ایشوز کو صحیح تناظر میں سمجھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں