.

شامی باغیوں کا قدیم مسیحی قصبے کے بعض حصوں پر قبضہ

معلولہ کی بیشتر آبادی گھربار چھوڑ کر دارالحکومت دمشق کی جانب چلی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع قدیم مسیحی قصبے کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان اور ایک مقامی شہری نے بتایا ہے کہ باغی جنگجو بڑی تیزی سے معلولہ پر قبضے کے لیے پیش قدمی کررہے ہیں۔

باغیوں نے تین روز پہلے اس قصبے میں شامی فورسز پر حملوں کا آغاز کیا تھا جس کے بعد بیشتر مقامی لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر دمشق کی جانب چلے گئے ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کی پاداش میں باغی جنگجو انھیں تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

قلمون کے علاقے میں واقع اس قصبے کی زیادہ تر آبادی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے اور باغی جنگجوؤں نے اس سے پہلے اس قصبے میں لڑائی کے بعد مبینہ طور پر گرجا گھروں کو نقصان پہنچایا تھا۔تاہم انھوں نے مقامی لوگوں کو کچھ نہیں کہا تھا۔

باغی جنگجوؤں اور شامی فورسز کے درمیان گذشتہ کئی روزسے قلموں کے علاقے میں تزویراتی اہمیت کی حامل شاہراہ پر قبضے کے لیے لڑائی ہورہی ہے۔یہ شاہراہ دمشق کو لبنان سے ملاتی ہے اور یہ شامی باغیوں کو اسلحے اور دیگر سامان رسد کی فراہمی کے لیے اہم روٹ بھی ہے۔