.

دوسال بعد پہلا برطانوی سفارتی وفد آج ایران آ رہا ہے

ناظم الامور کی آمد کے بعد ایرانی ناظم الامور لندن جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طویل وقفے کے بعد برطانیہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری کے نتیجے میں برطانوی سفارت کار آج ایرانی دورے پر پہنچ رہے ہیں۔ جواب میں لندن میں ایرانی سفارت خانے کیلیے نامزد ناظم الامور حسن حبیب اللہ زادے چند دن بعد تہران سے روانہ ہوں گے۔

گویا ماضی میں اچھے سفارتی تعلقات رکھنے والے دونوں ملکوں کے درمیان نئے سرے سے عملی سفارتی تعلقات کی شروعات ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔

پہلے قدم کے طور پر ایران کیلیے برطانیہ کے غیر رہائشی ناظم الامور اجے شرما آج منگل کو ایک سفارتی وفد کے ہمراہ تہران پہنچ کر برطانیہ کی سفارتی عمارات کی حالت کا معائنہ کریں گے۔ وہ ایرانی وزارت خارجہ کے حکام کے ساتھ دوطرفہ دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیالات بھی کریں گے۔

برطانوی سفارتی وفد کے دورے کے بعد جلد اسی نوعیت کا ایرانی سفارتی وفد لندن جا کر ایرانی سفارتی عمارات کا جائزہ لے گا اور ضروری امور پر برطانوی وزارت خارجہ کے اعلی حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔

واضح رہے برطانیہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی ابتدائی بحالی کا عمل جون میں صدر روحانی کے انتخاب کے بعد ممکن ہوا ہے، اس دوران ایک بڑی پیش رفت متنازع ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے جنیوا معاہدے کی صورت سامنے آئی ہے۔

اس سے پہلے برطانیہ نے تہران میں اپنا سفارتخانہ اس وقت بند کر دیا تھا جب نومبر 2011 میں سینکڑوں ایرانی طلبہ سفارتخانے پر چڑھ دوڑے تھے۔ یہ طلبہ ایران کیخلاف عاید کی گئی پابندیوں پر احتجاج کر رہے تھے۔

دونوں ملکوں نے تعلقات میں بحالی کے لیے غیر رہائشی ناظم الامورvایک ماہ قبل مقرر کیے تھے۔ یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی جنیوا میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد عمل میں آیا۔