شام: دس لاکھ شہری خوراک سے محروم

زیر محاصرہ علاقے زیادہ متاثر، ریڈکراس کے 32 کارکن جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اڑھائی سال سے زائد عرصہ پر پھیلی شام کی خانہ جنگی کیوجہ سے کم از کم دس لاکھ شامی شہری خوراک کے مسئلے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ اس امر انکشاف عالمی ریڈکراس نے اپنی شام سے متعلق تازہ رپورٹ میں کیا ہے۔

کرائسس مینجمنٹ چیف برائے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس سائمن ایکسلیشل کا کہنا ہے کہ '' ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ملین شامی اس وقت خوراک کے بغیر ہیں۔''

واضح رہے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس کا مقامی رکن ادارہ سیرین عرب ریڈ کراس شام میں عالمی آپریشن کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جو مجموعی طور پر تقریبا 21 ملین کی شامی آبادی کو خوراک فراہم کر رہا ہے۔

اس انسانی خدمت میں مصروف ریڈ کراس کے 3000 میں سے 32 کارکن اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

شام کے دور و نزدیک میں بشار رجیم یا باغیوں کی بنائی گئی چیک پوسٹس ابھی انسانی زندگیوں کو بچانے کیلیے کوشاں کارکنوں کیلیے اہم رکاوٹیں بن چکی ہیں۔

اب تک مقامی ریڈ کراس کے کارکنوں کی خدمات شام کے 85 فیصد حصہ تک پہنچی ہیں، جبکہ ابھی شام کا پندرہ فیصد حصہ مکمل طور پر ان خدمات سے محروم ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس کے ترجمان بنائٹ کارپینٹر کا کہنا ہے کہ ''شام کے کافی حصے تک کئی ماہ سے خوراک نہیں پہنچ سکی ہے، اس لیے ظاہر ہے کہ بد ترین صورتحال ان علاقوں میں جو زیر محاصرہ ہیں۔''

واضح رہے اس عالمی ادارے نے شامی عوام کیلیے امدادی رقم کی اپیل 58 ملین ڈالر سے بڑھا کر 117 ملین ڈالر کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں