.

شام میں افغانستان کی طرز پر 'وار لاڈز'مافیا سرگرم ہو گیا

"لوٹ مار تحریک انقلاب کوبدنام کرنے کی سازش ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں تین سال سے جاری بغاوت کی تحریک کے دوران بعض غیرملکی گروپ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ حال ہی میں ذرائع ابلاغ کے ذیعے یہ اہم اور چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے کہ "وار لارڈز" اور قومی املاک کی لوٹ مارکرنے والے کئی ملکی اورغیرملکی مافیا بھی شام میں سرگرم ہیں، جو شام سے باغیوں اور دوسرے عناصر کے ذریعے بھاری رقوم دوسرے ملکوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" کی رپورٹ کے مطابق شام میں شورش میں تیزی اورنہتے شہریوں کا کشت وخون پہلے ہی پریشانی کا باعث تھےمگر اب جنگ کی آڑمیں لوٹ مار کرنے والے گروپ ایک نیا درد سر بن چکے ہیں۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوٹ مارمیں مصروف مافیا جنگ کے دوران زیادہ کشیدگی کے شکارعلاقوں کواپنا آسان ہدف خیال کرتے ہوئے باغی گروپوں اور بسا اوقات سرکاری فوج کے روپ میں بنکوں اور تجارتی مراکز میں لوٹ مار کرتا ہے۔

حکومت کے خلاف برسرپیکارعمرمختار بریگیڈ کے سربراہ کمانڈر احمد القنطاری نے بتایا کہ حکومت مخالف بغاوت کی تحریک میں سرگرم کئی غیر ملکی جنگجو گروپ بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد شام میں لوٹ مار کے ذریعے دولت اکھٹی کرنا ہے۔ وہ صرف لوٹ مار کے لیے کسی بھی علاقے میں جنگ کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ جب جنگ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو یہ لوگ لوٹ مار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ان کا شامی جنگ سے کوئی تعلق تھا اورنہ ہی آئندہ انہیں تسلیم کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں کمانڈر احمد القنطار نے کہا کہ لوٹ مارکا سلسلہ صرف بنکوں اوردکانوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر لوگوں کے گھروں میں گھس کرنقدی اور خواتین کے زیوارات تک چھین رہے ہیں۔ شام میں سماجی گروپوں کی جانب سے بھی اسی نوعیت کی مسلسل شکایات آ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق حال ہی میں حلب ایک باغی گروپ کے نقاب پوش درجنوں عناصرنے گھرخالی کرکے بیرون ملک ہجرت کرنے والے شہریوں کے گھروں میں گھس کر ان کی تلاشی لی اور قیمتی اشیاء لوٹنے کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے۔

ادھرشام میں حکومت مخالف باغیوں کی منظم نمائندہ فوج "جیش الحر" نے باغی گروپوں کی صفوں میں لوٹ مارکرنے کالی بھیڑوں کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے انہیں تحریک انقلاب کے لیے نہایت خطرناک قرار دیا ہے۔ جیش الحرکے ایک اہم عہیدارکرنل عبدالجبارالعکیدی کا کہنا ہے کہ باغیوں کی صفوں میں لوٹ مار کرنے والے مافیا کا درآنا تحریک انقلاب کو بدنام کرنے کی ایک گھناؤی سازش بھی ہوسکتی ہے۔ عین ممکن ہے ایسے عناصر بشارالاسد کے وفادار گروپوں اور فوج کی جانب سے بھی سپورٹ مل رہی ہو گی۔