.

عراق:سرکاری کمپلیکس پر حملہ ،9 افراد ہلاک،17 زخمی

خودکش بم دھماکے کے بعد مسلح افراد کا مارٹروں سے حملہ اور فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر طرمیہ میں ایک سرکاری عمارت پر خودکش بم اور مارٹروں کے حملے میں نو افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی حکام نے بتایا ہے کہ دارالحکومت بغداد سے 25 کلومیٹر شمال میں واقع شہر میں پہلے ایک بمبار نےسرکاری عمارت میں داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس نے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی۔

اس کے بعد دوسرے حملہ آوروں نے سکیورٹی محافظوں پر فائرنگ کردی اور کمپاؤنڈ کی جانب مارٹر گولے فائر کیے۔اس عمارت میں شہر کے میئر کا دفتر ،پولیس اسٹیشن اور دوسرے حکومتی اداروں کے دفاتر واقع ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔تاہم اہل سنت سے تعلق رکھنے والے جنگجو اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے کارکنان اہل تشیع کی قیادت میں حکومت کے اہداف اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

ماہ نومبر میں تشدد کے واقعات میں قریباً ساڑھے نو سوافراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔عراق کی صحت ،داخلہ اور دفاع کی وزارتوں کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ ماہ کے دوران خودکش حملوں ،بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں 852 عام شہری ،53 پولیس اہلکار اور 43 فوجی ہیں۔

واضح رہے کہ عراق میں اس سال اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں چھے ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔2008ء میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ جنگ کے بعد اس ملک میں ایک سال میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

عراقی حکام ملک میں القاعدہ کے دوبارہ احیاء اور اس کے جنگجوؤں کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔القاعدہ کے جنگجوؤں کو پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی سے بھی تقویت ملی ہے اور انھوں نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔

لیکن سفارت کاروں ،تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت بدامنی کی حقیقی وجوہ کو دور کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔خاص طور پر وہ شیعہ حکام کے اہل سنت سے ناروا سلوک سے متعلق شکایات پر کوئی کان نہیں دھر رہی ہے۔