.

غیر قانونی تارکین وطن کی بیدخلی دوطرفہ معاہدوں کے مطابق ہے: ریاض

آپریشن کے بعد سے جرائم کی شرح میں غیرمعمولی کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نےملک میں جاری غیرقانونی تارکین وطن کے انخلاء کےبارے میں عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ یہ آپریشن علاقائی اور دو طرفہ معاہدوں کے مطابق ہو رہا ہے۔ جب تک آخری غیر قانونی تارک وطن سعودی عرب سے نکال نہیں دیا جاتا تب تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ سلمیان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ کے ہفتہ واراجلاس میں غیرملکیوں کے خلاف آپریشن کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیے جانے کاعمل پورے عزم کے ساتھ جاری رہے گا جس میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہیں کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں قانونی حیثیت کے مطابق مقیم غیرملکی شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاض اور دوسرے ملکوں کے درمیان باضابطہ معاہدے موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ریاض کسی دوسرے ملک کے باشندے کو غیرقانونی طورپر اپنے ہاں رکھنے کا پابند نہیں ہوگا۔ سعودی حکومت جب چاہے گی غیرملکیوں کو وہاں سےنکال دے گی کیونکہ غیرقانونی تارکین وطن قانونی حیثیت کے مطابق مملکت میں آنے والوں کی حق تلفی کرتے ہیں۔

بیان کے مطابق غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف آپریشن یک دم ہی نہیں شروع کردیا گیا بلکہ ہم ایک سال سےایسے افراد کو اپنے کاغذات کی درستی کی باربار تاکید کے ساتھ مہلت دیتے رہے ہیں۔ حکومت نے جب محسوس کیا کہ غیرقانونی تارکین وطن ریاض کی مہلت کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں تو ان کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا

۔درایں اثناء سعودی عرب کےڈائریکٹر برائے جنرل سیکیورٹی کے ایک مرکزی عہدیدار میجر جنرل جمعان الغامدی کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تارکین وطن کے انخلاء کے بعد ملک میں سماجی جرائم کی شرح میں غیرمعمولی کمی وقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ غیرقانونی تارکین وطن کی ان کے ملکوں کو واپسی کا عمل ابھی نیا ہے اور زیادہ دن نہیں گذرے ہیں لیکن اس کے باوجود ملک میں اس کے مثبت اثرات واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں ایک ماہ سے جاری غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف آپریشن میں اب تک کم سے کم ساٹھ ہزار غیرملکیوں کوان کے ملکوں میں ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔