.

"اخوان کی خفیہ تنظیم امارات حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی تھی"

دستاویزی فلم میں اخوان بارے اہم انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں اخوان المسلمون کی سرگرمیوں بارے "العربیہ" ٹیلی ویژں چینل پرنشر کی گئی دستاویزی فلم "روڈ ٹو جولائی 2" میں تنظیم کی مملکت میں سرگرمیوں بارےاہم انکشافات کیے گئے ہیں۔

دستاویزی فلم میں امارات یونیورسٹی کے ڈائریکٹرعلی النعیمی کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سونوے میں اخوان کی خفیہ تنظیم کے ارکان نے ولی عہد الشیخ محمد بن زائد سے ملاقات سے انکار کردیا تھا۔ ولی عہد اخوانی تنظیم کے ارکان کو مرشد عام سے بیعت ختم کرنا اورعالمی تنظیم اخوان المسلمون سے تعلق ختم کرانا چاہتے تھے مگر انہوں نے ولی عہد کا مشورہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

فلم میں گفتگو کرتے ہوئے اخوان کے سابق رہ نما احمد الشحی کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون کی خفیہ تنظیم نے اپنی باضابطہ سرگرمیوں کا آغاز پانچ سال قبل اس وقت شروع کیا جب عرب ممالک میں تبدیلی کی تحریک کے بادل منڈلانے لگے تھے۔ تب اخوان المسلمون نے متحدہ عرب امارات کے تعلیمی اداروں میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ طلباء کو بھرتی کرنا اور انہیں اسلحے کے استعمال کی ٹریننگ دینا شروع کی تاکہ طاقت کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹا جا سکے۔

انٹرنیشنل گلف آرگنائزیشن کے زیر اہتمام تیار کی جانے والی اس فلم میں اخوان المسلمون کی متحدہ عرب امارات میں سرگرمیوں کے علاوہ تنظیم زیرحراست ارکان کے ٹرائل کی بھی دستاویزی عکس بندی کی گئی ہے۔ بین الاقوامی گلف آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل حسن بن ثالث کا کہنا ہے کہ اخوان کی خفیہ تنظیم نے اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو اپنا اہم مرکز سن 1980ء کےعشرے میں بنانا شروع کر دیا تھا تاکہ نوخیز ذہنوں کو ریاست کے خلاف آمادہ بغاوت کیا جا سکے۔

وہیں سے اخوان کی خفیہ سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ بیشترتعلیمی اداروں میں اخوان المسلمون کا خفیہ پیغام پہنچایا گیا تاہم العین میں امارات یونیورسٹی سے اخوان کو تنظیم میں شمولیت کے لیے کوئی کارکن نہیں مل سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصرمیں حکومت بنانے قبل اورعرب بہاریہ کے دوران اخوان متحدہ عرب امارات کی حکومت پرایک کاری ضرب لگانا چاہتے تھے، تاہم انہیں اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔