.

شام: اسنائپرفائرنگ، معلولہ سےعیسائی ننوں کے انخلاء میں رکاوٹ

عیسائی کانونٹ میں رہ جانے والی ننوں کے بارے میں متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے شمال میں واقع عیسائی اکثریتی قصبے پر باغی جنگجوؤں کے قبضے کے بعد وہاں اسنائپروں کی فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے وہاں ایک کانونٹ میں موجود شامی اور لبنانی ننوں کے انخلاء میں رکاوٹ پڑ گئی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے سوموار کو اس امر کی تصدیق کی تھی کہ القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے شامی فوج سے کئی روز کی لڑائی کے بعد اس تاریخی قصبے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

آبزرویٹری نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس قصبے میں لڑائی کے دوران پھنس کر رہ جانے والی ننوں کو باغیوں نے اغوا کر لیا ہے۔ویٹی کن ریڈیو نے شام میں رومن کیتھولک کے نمائندے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ باغی جنگجو بعض ننوں کو معلولہ سے قریباً بیس کلومیٹر شمال میں واقع علاقے یبرود میں منتقل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

دمشق میں موجود اس نمائندے کا کہنا تھا کہ فی الوقت ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ننوں کو یبرود منتقل کیا گیا ہے یا انھیں اغوا کر لیا گیا ہے۔معلولہ کی مادر نن پلیجیا سیاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں اور دیگر گیارہ ننوں کو تین خادماؤں سمیت یبرود میں ایک مکان میں منتقل کردیا گیا ہے۔

باغی جنگجوؤں کے گذشتہ روز معلولہ پر قبضے کے بعد ان ننوں کے لاپتا ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔وہ ان چند لوگوں میں شامل تھیں جنھوں نے مارتکلہ کانونٹ میں پناہ لے رکھی تھی۔

باغیوں نے تین روز پہلے اس قصبے پر قبضے کے لیے شامی فورسز پر حملوں کا آغاز کیا تھا جس کے بعد بیشتر مقامی لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر دمشق کی جانب چلے گئے تھے کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کی پاداش میں باغی جنگجو انھیں تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

قلمون کے پہاڑی علاقے میں واقع اس قصبے کی زیادہ تر آبادی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے اور باغی جنگجوؤں نے اس سے پہلے ستمبر میں اس قصبے میں لڑائی کے بعد مبینہ طور پر گرجا گھروں کو نقصان پہنچایا تھا۔تاہم انھوں نے مقامی لوگوں کو کچھ نہیں کہا تھا۔معلولہ دمشق سے قریباً 55 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور یہ عیسائیت کی قدیم تہذیب کا امین ہے۔ اس کے مکین اب تک آرامی بولی بولتے چلے آرہے ہیں اور یہ یقین کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہی بولی بولتے ہوں گے۔