بیروت: حزب اللہ کا لیڈر قتل، ذمہ دار اسرائیل ہے: حزب اللہ

لبنان میں سیاسی اور مذہبی تقسیم پر منفی اثر پڑ سکتا ہے: تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے نزدیک لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ایک اہم رہنما کو قتل کر دیا گیا ہے۔ حزب اللہ نے اس قتل کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے۔

حزب اللہ کے ٹی وی چینل کے مطابق اس کے رہنما حسن القیس کا قتل بیروت کے مشرقی حصے میں ان کے گھر کے قریب پیش آیا ہے۔ حزب اللہ نے ان کی ہلاکت کا باضابطہ طو ر پر اعلان کر دیا ہے۔

ابتک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ان کا قتل منگل اور بدھ کی درمیانی شب کیا گیا ہے۔ حزب اللہ کے مطابق اس کے رہنما کا قتل اس کے کھلے دشمن نے کیا ہے۔ واضح رہے حزب اللہ اسرائیل کیخلاف متحرک کردار ادا کرنے والی تنظیم ہے اور سنہ 2006 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے ایک باقاعدہ جنگ بھی ہو چکی ہے۔

علی طبایتی حزب اللہ کے پس منظر اور سرگرمیوں کو اپنے تجزیات کا موضوع بنا تے رہتے ہیں نے اس قتل کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ'' اس کارروائی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ لبنان میں مذہبی منافرت بڑھے اور فرقہ واریت کی آگ بھڑک اٹھے ، نیز سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو۔''
علی طبایتی کا مزید کہنا ہے ''اس قتل کا مقصد لبنان میں فرقہ واریت کی آگ کو تیز کرنا ہو سکتا ہے۔'' تاہم انہوں نے کہا'' ابھی قتل کے بارے میں ایسی اطلاعات سامنے نہیں آسکی ہیں جن سے کسی حتمی نتیجے تک پہنچا جاسکے۔''
علی طبایتی نے کہا '' لبنان میں کوئی چیز چھپی نہیں رہتی ، جلد یا بدیر ہم یہ جان لیں گے کہ حسن القیس کو کس طرح قتل کیا گیا اور کس نے کیا ۔''
حزب اللہ کی طرف سے حسن القیس کے قتل کی فوری طور پر اسرائیل پر لگائے گئے الزام کو لبنان میں اس کے سیاسی پس منظر کے حوالے سے زیر بحث لایا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں