ایرانی فوجی اڈے پر حملہ ہم نے کیا: العدل بلوچ آرمی

سراوان فوجی اڈے پر حملے میں دسیوں فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان میں سرگرم تنظیم "العدل بلوچ آرمی" نے منگل کے روز سراوان شہر میں ایک ایرانی فوجی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں پاسداران انقلاب کے دسیوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

العدل بلوچ آرمی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے زیرکمانڈ تین مختلف بریگیڈ سے وابستہ 92 جنگجوؤں نے سراوان میں کوھج کے مقام پر پہلے پاسداران انقلاب کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا، جس کے بعد وہیں موجود ایک فوجی اڈے کا اڑھائی گھنٹے تک گھیراؤ جاری رکھ کے ایرانی فوج کے دسیوں اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوجی اڈے پر حملہ دشمن کے ٹھکانے پر کاری ضرب ہے اور تنظیم بلوچستان میں ایرانی تنصیبات کو مزید حملوں کا نشانہ بنائے گی۔ خیال رہے پاکستان کی سرحد سے متصل صوبہ بلوچستان، ایرانی حکومت مخالف سرگرمیوں کا مرکز رہتا ہے۔ ایک ہفتہ قبل اسی صوبے میں بلوچ عدل آرمی نے ایرانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹرمار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

العدل بلوچ آرمی کا کہنا ہے کہ تازہ حملہ 16 بلوچ کارکنوں کو پھانسی دینے اور شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت کے انتقام میں کیا گیا ہے۔ گذشتہ اکتوبر میں شدت پسند گروپ نے صوبہ بلوچستان میں ایرانی پاسداران انقلاب کے 14 اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا جس کے ردعمل میں ایرانی حکام نے فوری طور پر تنظیم کے سولہ کارکنوں کی پھانسی کی سزا پرعمل درآمد کرتے ہوئے انہیں قتل کردیا تھا۔

تنظیم کے ترجمان عبدالرؤف ریگی نے نامعلوم مقام سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ہم اپنے ان بلوچ کارکنوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرسکتے جو ایرانی انقلاب عدالتوں کے ظالمانہ فیصلوں کی بھینٹ چڑھتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں۔ ہم مظلوم شہداء کے خون کا ضرور بدلہ لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں