.

"القرضاوی دہشت گرد ہیں، انہیں عالم دین کہنا اسلام کی توہین ہے"

"شیخ الازھر" کا منصب بندوق کی نوک پرچھینا گیا: قرضاوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون کے ہم خیال ممتاز عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کے جامعہ الازھر سے متعلق ایک متنازعہ بیان سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ جامعہ الازھر میں اسلامی قانون کے استاذ پروفیسر ڈاکٹر احمد کریمہ کا کہنا ہے کہ یوسف القرضاوی ایک دہشت گرد شخص ہیں۔ ان کا تعلق بھی ایک اخوان المسلمون جیسی ایک دہشت گردی تنظیم سے وابستہ ہے۔ وہ عالم دین کہلوانے کے حق دار نہیں ہیں۔ جامعہ الازھر کے علماء کے خلاف انہوں نے جو زبان استعمال کی ہے وہ کسی عالم دین کو زیب نہیں دیتی۔

خیال رہے کہ مصر کی موجودہ فوجی حکومت کے ناقد سمجھے جانے والے دہری شہریت کے حامل علامہ یوسف القرضاوی نے جامعہ الازھر کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ استعفے کے بعد اپنے ایک بیان میں علامہ یوسف القرضاوی نے جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹراحمد الطیب کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں"خائن" قرار دیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر الطیب نے شیخ الازھرکا منصب فوج کی آمرانہ حکومت کی چاپلوسی اوربندوق کے زور پر ہتھیا رکھا ہے ورنہ وہ اس منصب کے ہر گز اہل نہیں ہیں۔

شیخ یوسف القرضاوی کے ریمارکس پر ردعمل میں جامعہ الازھر کے سرکردہ عالم دین علامہ احمد الکریمہ کا کہنا تھا کہ "جامعہ الازھروہ ادارہ ہے جو الشیخ یوسف القرضاوی کی بھی مادرعلمی ہے۔ علامہ قرضاوی آج جو کچھ بھی ہیں تو وہ صرف جامعہ الازھر کی مرہون منت ہیں۔ اگر وہ جامعہ الازھرمیں داخل نہ ہوتے تو آج اس مقام پر نہ ہوتے۔ انہیں اپنی مادرعلمی کی عزت اور وقار کی کوئی پرواہ نہیں۔ جامعہ اور اس کے شیوخ کے بارے میں یوسف القرضاوی کے ریمارکس متنازعہ ہی نہیں بلکہ نا قابل قبول ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ علامہ یوسف القرضاوی نے جامعہ الازھر کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے ایک دہشت گرد تنظیم سے اپنا ناطہ جوڑ رکھا ہے۔ وہ کبھی بھی اعتدال پسند شخص نہیں رہے ہیں اس کے باوجود انہیں مصر میں سیکیورٹی پروٹوکول ملتا رہا ہے۔
ازھری عالم دین نے شیخ یوسف القرضاوی کےبیان پر قطری حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یوسف القرضاوی جیسے شرپسندوں کو پناہ دے کرقطری حکومت دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ مصر کی فوج کی نگرانی میں قائم حکومت اور علامہ یوسف القرضاوی کے درمیان تناؤ اس وقت پیدا ہوا جب شیخ قرضاوی نے سابق صدر محمد مرسی کی معزولی کو سختی سے مسترد کردیا۔ اس کے رد عمل میں نگراں وزیر داخلہ محمد ابراہیم کے حکم پر علامہ یوسف القرضاوی کی مصری شہریت ختم کردی گئی تھی اوران کی تنظیم"عالمی علماء کونسل" کی مصر میں سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی تھی۔