.

برطانیہ میں اسلامی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے منصوبہ کا اعلان

ملک میں انتہا پسند مبلغین کی منافرت آمیز تبلیغ کا خاتمہ چاہتا ہوں: ڈیوڈ کیمرون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ''منافرت پھیلانے والے مبلغین کے زیراثر سخت گیری کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے اسلامی انتہا پسندی کو ایک ممتاز آئیڈیالوجی قراردینے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے''۔

برطانوی وزیراعظم نے چین کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس موسم گرما میں ہم نے جو کچھ دیکھا اس سے پوری قوم سکتے میں آ گئی تھی''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس طرح کے المیے حکومت کو خبردار کرنے کے لیے تھے کہ وہ اور پورا معاشرہ انتہا پسندی کی تمام شکلوں پر قابو پانے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ خواہ یہ ہمارے طبقات ،اسکول ،جیلیں ،اسلامی مراکز یا جامعات ہیں''۔

وہ گذشتہ ماہ مئی میں لندن کی ایک شاہراہ پر ایک برطانوی فوجی کے بہیمانہ انداز میں قتل کا حوالہ دے رہے تھے۔اس فوجی کے قتل کے الزام میں دو افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ان میں سے ایک ملزم نے عدالت میں کہا تھا کہ انھوں نے آنکھ کے بدلے آنکھ اور قتل کے بدلے قتل کا بدلہ لیا ہے۔ نیز انھوں نے برطانیہ کی مسلمانوں کے خلاف جنگوں کا انتقام لیا تھا۔ان دونوں نے عدالت میں قصور وارنہ ہونے کا بیان دیا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ''اسلامی انتہا پسندی کو پہلی مرتبہ ایک منفرد نظریہ قرار دیا جانا چاہیے تاکہ اس کو روایتی مذہبی اعمال کی پاسداری سے الگ تھلگ کیا جا سکے''۔ انھوں نے واضح کیا کہ برطانیہ کا مقصد ان متشدد نظریات کا مقابلہ کرنا ہے جو اپنے کارروائیوں کا اسلام سے جواز پیش کرتے ہیں۔

ان کے بہ قول نئی تعریف سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اسلامی انتہا پسندی اسلام کی مسخ شدہ تشریح ہے۔ یہ اس دین کے اصولوں کے منافی ہے اور اس سے تقسیم کے بیج بونے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اس وقت اسلامی مراکز میں بہت سے لوگوں کو سخت گیر(ریڈیکل) بنانے کے عمل سے گزارا جا رہا ہے۔ یہ لوگ انتہا پسند مبلغین سے رابطے میں ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر اپنے مواد کے ساتھ سامنے آتے ہیں جس کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا مگر میں برطانیہ میں نفرت کی تبلیغ کا خاتمہ چاہتا ہوں''۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ فوجی رگبی کے قتل کے بعد قائم کردہ ٹاسک فورس کی جانب سے پیش کردہ سفارشات پر عمل درآمد کریں گے۔اس کے علاوہ برطانیہ آن لائن اخلاق باختہ فلموں کی روک تھام کی طرح انتہا پسندی پر مبنی مواد کو روکنے کے لیےبھی کام کرے گا اور وہ انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس ضمن میں کام کرے گا تا کہ قابل اعتراض مواد کو لوگ از خود ہی آن لائن مشتہر ہونے سے روک سکیں.