.

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی میں تاخیر کا خدشہ

کیمیائِی ہتھیاروں کی بندرگاہ تک بحفاظت متقلی بڑی وجہ ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بدترین بدامنی کے باعث جون 2014 تک کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا پرجوش ہدف پورا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس خدشے کا اظہار گلوبل کیمیکل ویپنز واچ ڈاگ کی سربراہ سگرد کاگ نے کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیار تلفی مشن اور معائنہ کاروں کی ٹیم کی سربراہ سگرد کاگ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ '' شامی کیمائی ہتھیاروں کو تلفی کیلیے بندرگاہ لطاکیہ تک لے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ لیکن بندرگاہ تک جانے والی اہم شاہراوں کے گرد ونواح میں بدامنی کی وجہ سے ان خوفناک ہتھیاروں کی بحفاظت منتقلی ایک بڑا چیلنج ہے، اس لیے مقررہ مدت میں ان ہتھیارں کی تلفی مشکل ہو سکتی ہے۔''

انہوں نے کہا ''تاخیر کے یہ اسباب ہمارے قابو میں نہیں ہیں۔'' کاگ نے رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا شامی شاہراہوں کے بد امنی کے زد میں ہونے کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا '' دمشق اور شام کے شمالی حصوں کے درمیان سفر کی مشکلات کا یہ عالم ہے کہ بد امنی کے باعث انہیں مجبورا پہلے بذریعہ طیارہ بیروت جانا پڑا اور بعد میں بیروت سے بذریعہ ہیلی کاپٹر لتاکیہ پہنچی۔''

واضح رہے دمشق سے شمالی شہر خامس جانے والی سڑک ایک مصروف اور لتاکیہ کے بندرگاہی شہر جانے کیلیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ لیکن اس کے متحارب فریقین کے حملوں کی زد میں رہنے کی وجہ سے اس اہم شاہراہ سے گذرنا غیر ممکن ہو گیا ہے۔ اس لیے بندر گاہ تک پہنچنے کیلیے ہمسایہ ملک لبنان سے ہو کر آنا پڑ رہا ہے۔

کاگ نے مزید کہا ''کیمیائی ہتھیاروں کی لتاکیہ تک بحفاظت منتقلی کیلیے سکیورٹی کے انتطامات کرنا شامی حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم یہ کہنے میں حرج نہیں ہے کہ سکیورٹی سے متعلق مسائل سنگین ہیں۔'' انہوں نے واضح کیا کہ ''ان غیر محفوظ راستوں کا کوئی متبادل راستہ بھی موجود نہیں ہے۔''

واضح رہے شامی کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں عالمی سطح پر طے پانے والے معاہدے کے بعد سرکاری اور باغی فوجوں میں جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ جبکہ شام کے کیمیائی ہتھیارتقریبا پچاس مختلف مقامات پر ذخیرہ کیے گئے ہیں۔