.

شام کے شمالی شہر حلب میں راکٹ حملہ ،17 افراد ہلاک

سرکاری میڈیا کا دہشت گردوں پر شہری آبادی پر راکٹ برسانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب میں سرکاری کنٹرول والے دوعلاقوں میں راکٹ گرے ہیں جن کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور متعدد گاڑیوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا اور ایک مانیٹرنگ گروپ کی اطلاع کے مطابق شہر کے دو متصل مغربی علاقوں میریدین اور فرقان پر راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔ان میں سے ایک راکٹ ایک شاہراہ پر گرا جس سے وہاں گڑھا پڑ گیا ہے۔ سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں راکٹ حملے میں مرنے والوں کا خون فٹ پاتھ پر بکھرا پڑا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے راکٹ حملے میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے جبکہ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے مرنے والوں کی تعداد سترہ بتائی ہے اور اس کو شہری آبادی پر دہشت گردی کا حملہ قرار دیا ہے۔آبزرویٹری کے مطابق ان میں نو عام شہری اور پانچ صدر بشارالاسد کی سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حلب میں گذشتہ کئی ماہ سے باغی جنگجوؤں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔شامی فوج جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری کر رہی ہے اور شہر کے وسط میں متحارب فورسز کے درمیان دوبدو لڑائی ہورہی ہے لیکن شام کے اس سب سے بڑے شہر میں کسی بھی فریق کو برتری حاصل نہیں ہے۔البتہ حلب سے شمال میں واقع بیشتر علاقوں پر باغی جنگجووں نے اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔