.

فلسطینی صحافیہ کا صدر محمود عباس کو بطور احتجاج شادی کا پیغام

عوام حکومت کی کرپشن سے تنگ آ چکے:ھریدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی ایک خاتون صحافی نے ملک کی معاشی ابتری پر بطور احتجاج صدر محمود عباس کو پیغام نکاح بھیجا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 سالہ ایمان ھریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک" پر صدر محمود عباس کے نام اپنے"مسیج" میں کہا ہے کہ وہ خراب معاشی حالات کے باعث خوش حال زندگی نہیں گذار رہی ہیں۔ وہ اپنی زندگی کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے سچ مُچ میں صدر محمود عباس سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا چاہتی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق ایمان محمد ھریدی نے صدر ابو مازن کے نام اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ "میری عمر اب اٹھائیس سال ہو چکی ہے۔ میں ایک برد بار فلسطینی خاندان کی چشم وچراغ ہوں۔ پیشہ ورانہ طور پر میں صحافت سے وابستہ ہوں اور فلسطین ٹیلی ویژن میں خدمات سرانجام دے رہی ہوں۔ میں جناب صدر کو حقیقی اور پر خلوص انداز میں پیغام نکاح بھیج رہی ہوں تاکہ اپنی زندگی کی تمنائیں پوری کر سکوں اور معاشرے میں ایک باعزت شہری کے طور پر زندگی گذار سکوں"۔

ایمان ھریدی کا کہنا ہے کہ فلسطین میں جا بجا پھیلے بے روزگاری اور غربت کے مسائل کے باعث وہ بھی پریشان ہیں۔ اس کا خاندان کوئی سیاسی اثرو نفوذ نہیں رکھتا ہے لیکن امید ہے کہ صدر محمود عباس میرے اس پیغام کا "ہاں" میں جواب دیں گے۔

ایمان ھریدی نے فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام اداروں میں پھیلی کرپشن کہانیوں کا بھی شکوہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ملک میں مجھ جیسے سیکڑوں سند یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے روزگار ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے سرکاری اداروں میں بدعنوانی کا عام راج ہے۔ میں جناب صدر سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اتھارٹی کے اداروں کو بھی بدعنوانی سے پاک کریں۔ معاشی بحران کے حوالے سے میرے اس پیغام کو ایک احتجاج سمجھیں کیوںکہ جو جذبات میرے ہیں وہی تمام فلسطینی شہریوں کے ہیں۔

خیال رہے کہ 78 سالہ فلسطینی صدر محمود عباس نہ صرف شادی شدہ ہیں بلکہ ان کے بیٹوں کی بھی شادیاں ہو چکی ہیں۔ وہ سنہ 2004ء میں یاسرعرفات کے مبینہ قتل کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے تھے۔ ان کے نو سالہ عرصہ اقتدار میں فلسطینی اتھارٹی پر کرپشن اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے بے پناہ الزامات لگتے رہے ہیں۔

صدر محمود عباس کی معاشی پالیسیوں سے عوام تنگ رہتے ہیں اور آئے روز مغربی کنارے اور دوسرے شہروں میں رام اللہ حکومت کے خلاف عوام کے احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ قومی خزانے کے خالی ہونے کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں فلسطینی حکومت نے فلسطینی شہداء کے ورثاء کو ملنے والا ماہانہ وظیفہ بھی بند کر دیا ہے۔