.

مصر: سلفیوں نے نئے متنازعہ آئین کی حمایت کر دی

مزید افراتفری سے بچنے کے لیے آئینی ریفرینڈم میں حصہ لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں دوسری بڑی اسلامی جماعت حزب النور نے نئے مرتب کردہ متنازعہ آئین کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے وہ ملک کو مزید افراتفری سے بچانے کے لیے مجوزہ ریفرینڈم میں اس نئے آئین کے حق میں ووٹ دے گی۔

سلفی جماعت کے سربراہ یونس ماخیوم نے جمعرات کو قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''حزب النور ریفرینڈم میں حصہ لے گی اور ملک میں استحکام کی خاطر اور مزید افراتفری سے بچنے کے لیے آئین کی حمایت کرے گی''۔

حزب النور نے 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے اقدام اور اس کے بعد فوج کی نگرانی میں انتقال اقتدار کے عمل کی حمایت کی تھی۔ مجوزہ آئین میں کہا گیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کی تشکیل پر پابندی ہوگی اور اس کی زد میں خود حزب النور بھی آسکتی ہے۔ مصر کا نیا آئین مرتب کرنے والے پچاس رکنی پینل میں اس سخت گیر سلفی جماعت کا ایک نمائندہ بھی شامل تھا۔

درایں اثناء جمہوریت پسند کارکنان نے نئے آئین کے مسودے کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے انھیں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد حاصل ہونے والی آزادیوں سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

قاہرہ میں ایک عدالتی ذریعے نے بتایا ہے کہ پبلک پراسیکیوٹر نے تین سیاسی کارکنان کے خلاف بغیر اجازت احتجاجی مظاہرہ کرنے کے الزام میں کیس عدالت کو سماعت کے لیے بھیج دیا ہے۔

ان میں 2011ء میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج میں پیش پیش 6 اپریل تحریک کے سربراہ احمد ماہر اور ایک اور معروف سیاسی کارکن احمد دوما شامل ہیں۔انھیں مجوزہ آئین میں شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے سے متعلق دفعہ کے خلاف احتجاج کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر 26 نومبر کو مجاز حکام کی اجازت کے بغیر مظاہرہ کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ اس سے دو روز پہلے مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی سے متعلق متنازعہ قانون نافذ کیا تھا اور اس کے تحت سیاسی کارکنوں کے خلاف یہ پہلا مقدمہ ہے۔