.

پاکستان میں ''العربیہ'' کے بیورو چیف اغوا کاروں سے رہا

بکر عطیانی کو فلپائن کے ایک جزیرے سے اغوا کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کے بیورو چیف بکر عطیانی کو اٹھارہ ماہ بعد اغوا کاروں سے رہائی مل گئی ہے۔ انہیں جون 2012 میں فلپائن کے جنوب میں واقع جزیرے سے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلیے فلپائن میں پانچ دن پہلے پہنچے تھے۔ ان کی رہائِی کی العربیہ نیوز چینل نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

''العربیہ'' کی اعلی انتظامیہ اور ذمہ داران نے اس اٹھارہ ماہ پر محیط اذیت ناک عرصے میں تنتالیس سالہ بکر عطیانی کی رہائی کیلیے مسلسل اور ٹھوس کوششیں جاری رکھیں، جو بدھ کے روز بار آور ثابت ہوئیں۔ انہیں ابو سیاف گروپ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔ البتہ اب انہیں رہا کر کے فلپائن کے متعلقہ صوبے کے گورنر آفس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اردن کے رہائشی بکرعطیانی کی اس رہائی پر العربیہ نے شادمانی اور تشکر کے احساس کے ساتھ اپنے نمائندے کے اہل خانہ اور رفقاء کو یہ خوشگوار خبر اور مبارکباد دی ہے ۔ فلپائن حکام بکر عطیانی کو بحفاظت اپنے ملک بھجوانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

معلوم ہوا ہے اس طویل عرصے کے دوران بکر عطیانی کی عمومی صحت متاثر ہوئی ہے، تاہم وہ اب اپنے اہل خانہ اور العربیہ کے رفقا کو آ ملیں گے۔

العربیہ ٹی وی چینل نے اپنے نمائندے کی اس صبر آزما ''اسیری'' سے نجات کیلیے ہمہ جہت کوششیں کیں اور مختلف اہم شخصیات کا تعاون بھی حاصل کیا۔ ذرائع کے مطابق بکر عطیانی کی رہائی میں مصر کی عظیم جامعہ الازہر کے سربراہ، مفتی اعظم فلسطین، او آئی سی، فلسطینی صدر محمود عباس، کی فون کالز اور کوششوں کو بھی بڑا دخل ہے۔ ان تمام کوششوں کو مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ سنٹر نے اہل خانہ کے تعاون کے ساتھ نتیجہ خیز بنا نے کے لیے کردار ادا کیا۔

واضح رہے بکر مشرق وسطی کے ایک نامور ٹی وی جرنلسٹ ہیں۔ وہ نائن الیون سے پہلے اسامہ بن لادن کا انٹر ویو بھی کر چکے ہیں۔ وہ جنوبی فلپائن کے مسلمانوں کے بارے میں ایک ڈاکومنٹری فلم کی تیاری کیلیے 5 جون 2012 کو پہنچے تھے۔ لیکن سات دن بعد انہیں اغوا کر لیا گیا۔

ایم بی سی کے چئِرمین شیخ ولید الابراہیم نے بکر عطیانی کی رہائِی پر ان کے اہل خانہ اور پورے العربیہ کو مبارک دی ہے۔ جبکہ العربیہ کے جنرل مینجر عبدالرحمان الراشد نے بکر عطیانی کی رہائی کیلیے کوششوں کا حصہ بننے والے ہر فرد کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وہ العربیہ ٹی وی چینل کے پاکستان میں بیوروچیف رہے ہیں، جبکہ ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا دائرہ مشرقی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے۔