.

پوپ فرانسیس کی شامی ننوں کے لیے دعا کی اپیل

شام میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کی رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے شام میں مبینہ طور پر مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا ہونے والی ننوں سمیت تمام یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔

پوپ فرانسیس نے بدھ کو ویٹی کن کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''میں شام کے قصبے معلولہ کے آرتھوڈکس کانونٹ سینٹ تکلہ کی ننوں کے لیے دعا کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم ان ننوں اور خانہ جنگی کا شکار ملک میں اغوا ہونے والے تمام افراد کے لیے دعا گو ہیں''۔

القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے شامی فوج سے لڑائی کے بعد سوموار کو دمشق سے شمال میں واقع عیسائی اکثریتی قصبے معلولہ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ان پر عیسائی ننوں کے اغوا کا الزام عاید کیا جا رہا ہے لیکن برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ان ننوں کو باغیوں نے اغوا کیا ہے۔

شام میں رومن کیتھولک کے نمائندے ماریو زیناری کے مطابق پیچھے رہ جانے والی بعض ننوں کو معلولہ سے قریباً بیس کلومیٹر شمال میں واقع علاقے یبرود میں منتقل کر دیا ہے۔ انھوں نے گذشتہ روز ویٹی کن ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ننوں کو یبرود منتقل کیا گیا ہے یا انھیں اغوا کر لیا گیا ہے۔

معلولہ کی مادر نن پلیجیا سیاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں اور دیگر گیارہ ننوں کو تین خادماؤں سمیت یبرود میں ایک مکان میں منتقل کر دیا گیا ہے۔عیسائی ننیں ان چند لوگوں میں شامل تھیں جنھوں نے باغی جنگجوؤں کی سرکاری فوج کے ساتھ لڑائی کے دوران مارتکلہ کانونٹ میں پناہ لے رکھی تھی۔

باغیوں نے گذشتہ ہفتے کے روز اس قصبے پر قبضے کے لیے شامی فورسز پر فیصلہ کن حملوں کا آغاز کیا تھا جس کے بعد بیشتر مقامی لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر دمشق کی جانب چلے گئے تھے کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کی پاداش میں باغی جنگجو انھیں تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

قلمون کے پہاڑی علاقے میں واقع اس قصبے کی زیادہ تر آبادی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے اور باغی جنگجوؤں نے اس سے پہلے ستمبر میں اس قصبے میں لڑائی کے بعد مبینہ طور پر گرجا گھروں کو نقصان پہنچایا تھا، تاہم انھوں نے مقامی لوگوں کو کچھ نہیں کہا تھا۔معلولہ دمشق سے قریباً 55 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور یہ عیسائیت کی قدیم تہذیب کا امین ہے۔دنیا میں یہ واحد جگہ ہے جس کے مکین اب تک آرامی بولی بولتے چلے آرہے ہیں اور یہ یقین کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہی زُبان بولتے ہوں گے۔