.

اخوانی حمایت میں رابعہ کا نشان مصری فٹبالر کے لئے وبال بنا گیا

کھلاڑی پر قومی فٹبال میچوں میں ایک سال کے لیے پابندی عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون کی حمایت کرنے والے افراد اور اہم شخصیات کو فوجی آمریت کی چھتری تلے قائم عبوری حکومت کی جانب سے چُن چُن کرانتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی ضمن میں مصرکی قومی فٹبال ایسوسی ایشن نے مشہور فٹبالر احمد عبدالظاھر پر فٹبال کے مقامی میچوں کے لئے تین ماہ اور قومی مقابلوں میں ایک سال کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔ فٹبالر عبد الظاھر پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ ماہ ایک میچ کے دوران ہاتھ کی چار انگلیوں پر مبنی نشان بنا کر اخوان المسلمون کی مبینہ حمایت کا اظہار کیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری فٹبال ایسوسی ایشن کی انضباطی کمیٹی کے چیئرمین ایڈووکیٹ کمال دیاب نے ایک اجلاس کے بعد حتمی طور پر احمد عبدالظاھر کو مختلف مدت کے لیے مقامی اور قومی سطح کے فٹبال مقابلوں کے لیے نا اہل قرار دیا۔

فٹبال ایسوسی ایشن کے کی انضباطی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کھیل اور سیاست کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے جبکہ احمد عبدالظاھر نے ایک متنازعہ جماعت کی علامت سمجھے جانے والے اشارے کے ذریعے کھیل کو سیاست سے آلودہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کے بعد وہ 10 نومبر کے بعد سے مقامی سطح کے مقابلوں کے لیے تین ماہ اور قومی سطح کے مقابلوں کے لیے ایک سال کے لیے نا اہل ہوں گے۔

خیال رہے کہ احمد الظاھر نے نومبر میں جنوبی افریقا کی ایک ٹیم کے خلاف مقابلے کے دوران گول کرنے کے بعد ہاتھ کی چار انگلیوں سے اپنی فتح کا اشارہ کیا تھا۔ اس سے قبل یہ اشارہ "رابعہ العدویہ" کی وجہ سے مصر میں اخوان المسلمون سے یکجہتی کے اظہار کی علامت کے طور پر مشہور ہو چکا تھا۔ عبدالظاھرکے اس اقدام پر مصری عوامی حلقوں اور حکومت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔

ہاتھ سے چار انگلیوں کا نشان بنانے پر مصرکے عبوری وزیر برائے کھیل طاھر ابو زید نے کہا کہ "احمد عبدالظاھر نے جو کچھ کیا ہے اسے خاموشی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس کے خلاف فٹبال کلب اور فیڈریشن کی جانب سے سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی۔