القاعدہ: یمنی وزارت دفاع پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی

یمنی دوستوں کی مدد کیلیے تیار ہیں، امریکہ خطے میں ہائِی الرٹ پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی فوج نے یمنی دارالحکومت صنعا میں وزارت دفاع کی بلڈنگ پر کیے گئے خود کش دھماکوں کے بعد علاقائی سطح پر خود کو پہلے سے زیادہ الرٹ کر لیا ہے۔ جمعرات کے روز یمنی وزارت دفاع پر خود کش حملے کے نتیجے 52 افراد ہلاک جبکہ 167 زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں یمن کے صدر کا بھتیجا بھی شامل ہے۔

ایک امریکی ذمہ دار کے مطابق امریکی فوج اہنے یمنی دوستوں کی مدد کیلیے پہلے سے بھی زیادہ تیار ہے۔ امریکی ذمہ دار نے اس سلسلے میں تفصیل بتانے سے معذرت کی ہے۔

دوسری جانب جمعہ کے روز القاعدہ نے وزارت دفاع پر کیے جانے والے تازہ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے.

وزارت دفاع کے بارے میں القاعدہ کا کہنا ہے کہ یہ القاعدہ پر امریکی ڈرون حملوں میں مدد دینے اور ان ڈرون حملوں کو ممکن بنانے میں کردار رکھتی ہے۔ اس دعوے کے مطابق یمن کی وزارت دفاع کی عمارت کو امریکی بھی استعمال کرہے ہیں۔

وزارت دفاع پر حملے میں پہلے کار بم دھماکہ کیا گیا جبکہ فوری بعد بندوق برداروں نے غیر معمو لی فائرنگ کی۔ اس صورتحال میں اپوزیشن جماعت الاصلاح پارٹی کے ترجمان منصور الزندانی کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع پر حملہ اے کیو اے پی نے کیا ہے جسے امریکا سب سے خطرناک قرار دیتا ہے۔

یہ تازہ ترین حملہ عبوری حکومت کیلیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ حکومت کو دہشت گردی ہی نہیں اقتصادی چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ مشکل صورتحال سے نکلنے کیلیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی مکالمے کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں