.

بشار الاسد کی فوج پر زہریلی گیس استعمال کا الزام

نئی کیمیائی واردات قلمون کے نزدیک ''نابک'' قصبے میں کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی اپوزیشن جماعتوں نے بشارالاسد پر پھر سے اپنے مخالفین کو زہریلی گیسوں سے ہلاک کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے مطابق یہ واقعات دمشق سے 68 کلومیٹر کے فاصلے پر باغیوں کے زیر قبضہ قصبے نابک میں سامنے میں آیا ہے۔

اس قصبے میں مبینہ طور پر زہریلی گیس سے متاثر ہونے والوں کے جسمانی اعضا پھول جاتے ہیں اور ان کے منہ سے جھاگ نکلتی رہتی ہے۔ اپوزیشن نے دعوی کیا ہے کہ اب تک کم از کم اس قصبے پر ایسی زہریلی گیسوں کے دو شیل فائر کیے گئے ہیں۔ نابک نامی قصبہ قلمون کے نزدیک ہے جہاں پچھلے دنوں سخت لڑائی ہوئِی ہے۔

اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے عامرالقلمونی نے بتایا'' اب تک سات شہری اس زہریلی گیس کی وجہ سے بیمار پڑے ہیں۔ '' قلمونی کے بقول ''ابھی تک ان متاثرہ افراد کو ڈاکٹر ک پاس نہیں لے جایا جا سکا ہے کیونکہ یہ قصبہ اپوزیشن کا حامی ہونے کے باعث مسلسل گولہ باری کا ہدف بنا ہوا ہے۔''

ایک اور سیاسی اور سماجی طور پر متحرک کارکن عامر کازک نے بتایا '' جو دو شیل پھینکے گئے ہیں انہوں نے قصبے کے مرکزی حصے کو نشانہ بنایا ہے۔'' اس کے بقول یہ دونوں شیل دیر عطیہ کے علاقے میں ایک پہاڑی پر قائم فوجی کیمپ سے فائر کیا گیا تھا۔''

دریں اثناء شام کی انقلابی رابطہ یونین نے بھی بشارالاسد کی افواج پر الزام عاید کیا ہے کہ زہریلی گیس استعمال کر کے نو افراد کو ہلاک کیا ہے۔ اس یونین کا کہنا ہے '' ہم نے ان نو افراد کی دساتویزات بھی جمع کی ہیں جنہیں سرکاری فوج نے گیس سے ہلاک کیا ہے۔''

واضح رہے شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے سب سے زیادہ ہلاکتیں 21 اگست کو دمشق کے نزدیک الغوطہ میں ہوئی تھیں جب 1400 سے زائد شہری مارے گئے تھے۔