.

شامی باغیوں کا 12 عیسائی ننوں کو یرغمال بنانے کا دعویٰ

اسد حکومت سے بدلے میں زیر حراست 1000 خواتین کو رہا کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار افواج کے خلاف محاذآرا ایک باغی گروپ نے بارہ عیسائی ننوں کے اغوا کی ذمے داری قبول کی ہے اور ان کے بدلے میں حکومت کے زیر حراست کم سے کم ایک ہزار خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

''آزاد قلمون'' نامی اس باغی گروپ کے ترجمان مہند ابو الفدا نے عربی اخبار الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ ''عیسائی ننیں محفوظ ہیں لیکن ہمارے متعدد مطالبات پورا ہونے تک انھیں رہا نہیں کیا جائے گا۔ان میں سے سب سے اہم مطالبہ بشارالاسد حکومت کی جیلوں میں ایک ہزار خواتین کی رہائی ہے''۔

دمشق میں یونانی آرتھوڈکس چرچ کے ایک نمائندے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ننیں محفوظ ہیں لیکن انھوں نے باغیوں کے ہاتھوں ان کے اغوا کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

شام میں رومن کیتھولک کے نمائندے ماریو زیناری نے گذشتہ منگل کو اطلاع دی تھی کہ القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے معلولہ پر قبضے کے بعد بارہ عیسائی ننوں کو وہاں سے قریباً بیس کلومیٹر شمال میں واقع قصبے یبرود میں منتقل کردیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ننوں کو (حفاظت کی خاطر) یبرود منتقل کیا گیا ہے یا انھیں اغوا کر لیا گیا ہے۔

النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے شامی فوج سے لڑائی کے بعد گذشتہ سوموار کو دمشق سے شمال میں واقع عیسائی اکثریتی قصبے معلولہ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ان پر عیسائی ننوں کے اغوا کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن معلولہ کی مادر نن پلیجیا سیاف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں اور دیگر گیارہ ننوں کو تین خادماؤں سمیت یبرود میں ایک مکان میں منتقل کردیا گیا ہے۔ عیسائی ننیں ان چند لوگوں میں شامل تھیں جنھوں نے باغی جنگجوؤں کی سرکاری فوج کے ساتھ لڑائی کے دوران مارتھکلہ کانونٹ میں پناہ لے رکھی تھی۔

باغیوں نے گذشتہ ہفتے کے روز لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع معلولہ پر قبضے کے لیے شامی فورسز پر فیصلہ کن حملوں کا آغاز کیا تھا جس کے بعد بیشتر مقامی لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر دمشق کی جانب چلے گئے تھے کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کی پاداش میں باغی جنگجو انھیں تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

قلمون کے پہاڑی علاقے میں واقع اس قصبے کی زیادہ تر آبادی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ باغی جنگجو دمشق اور حمص کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ پر کنٹرول کے لیے گذشتہ کئی ہفتوں سے شامی فوج سے لڑرہے ہیں۔ یہی شاہراہ شام کو لبنان سے ملاتی ہے اور یہ باغی جنگجوؤں کو کمک پہنچانے کا اہم راستہ ہے۔