نیلسن منڈیلا انتقال کر گئے، دنیا بھر میں غم کی فضا

احترام میں جنوبی افریقہ اور برطانیہ کے پرچم سرنگوں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی افریقہ کے سابق صدر اور ممتاز عالمی شخصیت نیلسن منڈیلا 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ ماہ ستمبر سے ہسپتال میں تھے اور کچھ عرصے سے بات بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ انہیں بنیادی طور پھیپھڑوں میں انفیکشن کا عارضہ تھا۔ اس وجہ سے ماہ اپریل میں پہلی بار زیادہ دنوں کیلیے ہسپتال رہنا پڑا۔ اب ہسپتال میں دنوں سے مصنوعی تنفس کیلیے وینٹی لیٹر پر تھے۔

افریقی صدر جیکب زوما نے زندگی بھر اپنے قومی حقوق کیلیے لڑنے والے سب سے بڑے افریقی رہنما کے زندگی ہار دینے اور عدم روانگی کا با ضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ان کی تدفین تک جنوبی افریقہ کا پرچم سرنگوں رہے گا۔ برطانوی وزیر اعظم نے بھی 10 ڈاوننگ سٹریٹ پر پرچم سرنگوں کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر اوباما سمیت بہت سی عالمی شخصیات نے نیلسن منڈیلا کی زندگی، جدوجہد، قربانی اور قیادت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ نیلسن منڈیلا کے اہل خانہ کے علاوہ افریقی عوام سمیت بین الاقوامی مداحین کی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ پر جمع ہو رہی ہے۔

افریقی صدر جیکب زوما نے ان کے انتقال کا باقاعدہ اعلان کیا اور کہا '' ہم وطنو ، ہماری قوم اپنے عظیم سپوت سے محروم ہو چکی ہے۔ ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں اس عظیم سپوت کو الوداع کہہ سکیں۔''

نیلسن منڈیلا جنہوں نے 95 سال کی طویل عمر پائی، آزادی اور قومی حقوق کیلیے طویل جدوجہد کی ، طویل عرصہ یعنی 27 برس تک جیل میں رہے، جیل کے دنوں سے ہی پھیپھڑوں کے انفیکشن کا عارضہ لا حق ہوا جو آخری وقت تک ساتھ رہا۔

نیلسن منڈیلا کو فروری 1990 میں جیل سے رہائی ملی۔ تین سال بعد وہ نوبل انعام کے مستحق قرار پائے اور اگلے سال انہیں جنوبی افریق کا پہلا سیاہ فام صدر بننے کا اعزاز ملا۔

طویل عمری کی وجہ سے انہوں نے 2004 سے اپنی عوامی سرگرمیاں محدود کر دی تھیں۔ انہیں آخری مرتبہ 2010 عوامی تقریب میں دیکھا گیا۔ یہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ کی اختتامی تقریب تھی۔

صدر اوباما نے ان کے انتقال پر کہا ہے '' آج وہ اپنے گھر روانہ ہو گئے ہیں، اور دنیا ایک انتہائِی موثر شخصیات میں سے ایک سے محروم ہو گئی ہے، وہ ایک بہادر اور بھلے انسان تھے۔''

اوباما نے کہا ''نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ کو تبدیل کر دیا اور ہم سب کو تحریک دی، میں ان کے ان بےشمار متاثرین میں سے ایک ہوں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں