.

اردن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب

جنرل اسمبلی میں 193 رکن ممالک میں سے 178 کا اردن کے حق میں ووٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سعودی عرب کی جگہ اردن کو سلامتی کونسل کا دو سال کے لیے غیر مستقل رکن منتخب کرلیا ہے۔

اردن اس نشست کے لیے واحد امیدوار تھا اور جنرل اسمبلی کے کل 193 رکن ممالک میں سے 178 نے اس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اردن کو سعودی عرب کے انکار کے بعد عرب ممالک نے اس نشست کے لیے نامزد کیا تھا اور دیگر ایشیائی ممالک نے اس کی حمایت کی تھی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 17 اکتوبر کو سعودی عرب کو پہلی مرتبہ دو سال کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا تھا لیکن اس نے اس سے ایک روز بعد ہی عالمی ادارے میں اصلاحات متعارف کرانے تک اس کی نشست سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس کے اس فیصلے کے بعد اردن اس نشست کے لیے مشرق وسطیٰ اور ایشائی ممالک کی جانب سے امیدوار کے طور پر سامنے آیا تھا۔ گذشتہ ماہ بعض سفارت کاروں نے بتایا تھا کہ اردن سلامتی کونسل کی نشست سنبھالنے کے معاملے پر متردد تھا لیکن سعودی عرب نے ہی اسے فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا تھا۔

سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے دراصل یہ احتجاجی فیصلہ امریکا کی شام اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں پالیسیوں کے ردعمل میں کیا تھا اور وہ شامی بحران کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل کے کردار سے مطمئن نہیں تھا۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں شام میں گذشتہ بتیس ماہ سے جاری خانہ جنگی رکوانے میں ناکامی پر سلامتی کونسل کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ''سلامتی کونسل نے اپنے کام کے لیے جو طریق کار، میکانزم اور دُہرے معیارات اپنا رکھے ہیں، ان کی وجہ سے وہ عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے''۔

اس بیان کے مطابق سلامتی کونسل فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان عشروں پرانے تنازعے کے حل کے علاوہ مشرق وسطیٰ کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے میں بھی ناکام رہی ہے۔بعد میں سعودی عرب نے چھے بڑی طاقتوں کے ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر سمجھوتے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے پر زوردیا تھا۔

واضح رہے کہ اردن سے پہلے چاڈ ،چلّی، لیتھوینیا اور نائیجیریا کو پندرہ ارکان پر مشتمل سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا گیا تھا۔اب یہ پانچوں ممالک یکم جنوری 2014ء کو آذربائیجان، پاکستان، گوئٹے مالا، مراکش اور ٹوگو کی جگہ سلامتی کونسل کی دوسال کے لیے نشستیں سنبھالیں گے۔

اردن نے نومبر میں جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت کے لیے بطور امیدوار دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد سعودی عرب کو سینتالیس ارکان پر مشتمل کونسل کا رکن منتخب کر لیا گیا تھا۔