.

امریکا، ریاض کے درمیان گہرا اسٹرٹیجیک تعاون جاری ہے: چک ہیگل

خطے میں فورسز میں کمی نہیں کی جائے گی: امریکی دفاعی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ساتھ چھ بڑی طاقتوں کے ابتدائی جوہری معاہدے کے بعد امریکی وزیر خارجہ کے علاوہ وزیر دفاع چک ہیگل بھی عرب دنیا کو سلامتی کے حوالے سے یقین دہانیاں کرانے ہوئے متحدہ عرب امارات کے بعد اب سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ وہ اپنے حالیہ دورہ مشرق وسطی میں مصر کے دفاعی ذمہ داران سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

چک ہیگل نے متحدہ امارات میں سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کر کے اپنے عرب دوستوں کو اطمینان دلایا گے کہ امریکا اپنے دوستوں کے شانہ بشانہ خطے میں پوری طاقت کے ساتھ موجود رہے گا۔ نیز امریکا کا اس خطے میں اپنی فورسز اور اسلحے کی موجودگی میں کمی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

امریکی وزیر دفاع کے ساتھ موجود حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا '' یہ خطے کیلیے قدرے مشکل وقت ہے، اسی وجہ سے امریکی پالیسی کے حوالے سے بھی بہت سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ ایران کے جوہری معاہدے کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھ رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع ہفتے کے روز اپنی ملاقاتوں اور تقریر میں وہ سعودی قیادت کو ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کرائیں گے کہ جوہری معاہدے سے ایسا کچھ تبدیل نہیں ہوا ہے، جس سے پریشان ہوا جائے۔ امریکی حکام کے مطابق چک ہیگل اس امر کو اجاگر کریں گے کہ ہماری اپنے دوستوں کے ساتھ طویل مدتی کمٹمنٹس ہیں اور دنیا کے اس خطے میں سلامتی کے حوالے ہمارے اہداف اہم ہیں۔

واضح رہے دنیا کی چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان 24 نومبر کو معاہدے کے بعد امریکی وزیر دفاع پہلی مرتبہ عرب دنیا کے دورے پر آئے ہیں۔

امریکی دفاعی ذمہ دار کا کہنا تھا ''یہ وزیر دفاع کیلیے ایک اہم موقع ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عمل کو آگے بڑھائیں اور انہیں بتائیں کہ امریکا اور عرب ملکوں کے تعلقات میں کوئی کمزوری نہیں ہوئی بلکہ یہ ہمیشہ کی طرح مستحکم ہیں۔

ہفتے کے روز بحرین کے دارالحکومت منامہ میں سالانہ کانفرنس کا انعقاد انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریجک سٹڈیز کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔