.

العربیہ پاکستان کے بیوروچیف، کیلیے اردن میں انتظار

اولین ترجیح اپنے پیاروں کو دیکھنا ہے، کتاب لکھوںگا، بکرعطیانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ پاکستان کے بیورو چیف بکرعطیانی جو ابو سیاف گروپ کے اغوا کاروں سے رہائی پانے کے بعد جمعہ کے روز فلپائنی حکام کے ذریعے دارالحکومت لائے گئے تھے، اب پنے پیاروں کے درمیان اردن پہنچنے والے ہیں۔ بکرعطیانی کے اٹھارہ ماہ سے زائد عرصے پر پھیلے اذیت ناک تجربے میں ان کا ایک تہائی وزن تو کم ضرور ہوا لیکن ان کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

اب واپس اپنے وطن پہنچ کر جہاں اپنے پیاروں سے ملنا ان کی اولین ترجیح ہے وہیں اپنے اس منفرد، دلچسپ، سنسنی خیز اور خوفناک تجربے کو قلمبند کرنے کا ہدف بھی ان کے سامنے ہے۔

منیلا میں جمعہ اور ہفتے کے روز بکر عطیانی کا طبی معائنہ کرایا گیا کہ ایک طویل اور قطعی ناواجب '' اسیری'' میں ان کی صحت کیلیے طبی معائنہ ضروری تھا۔ منیلا سے اردن کیلیے روانہ ہونے سے پہلے بکر عطیانی کا کہنا تھا '' میری اولین ترجیح اپنے پیاروں کو دیکھنا اور اپنی زندگی میں واپس جانا ہے۔''

''میں ایک کتاب لکھنے پر اپنی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں، تاکہ ان ہاٹ سپاٹس کو کور کر سکوں۔'' بکر کا مزید کہنا تھا '' اپنی کتاب میں اپنے اس تجربے کو شامل کروں گا، امید ہے کتاب میں یہ ایک اچھا اضافہ ہو گا۔''

ایک سوال کے جواب بکر نے کہا '' فلپائن خوبصورت لوگوں کی خوبصورت جگہ ہے، یقینا فلپائن کے لوگوں میں پھر آئوں گا۔''

اردن سے تعلق رکھنے والے اس نامور صحافی کا کہنا تھا کہ اسے ابوسیاف گروپ سے رہائی ملی ہے۔ بکر کو جون 2012 میں فلپائن کے جنوب میں واقع جزیرے جولو سے اسوقت اغواکیا گیا تھا جب وہ اس جزیرے میں مسلمانوں کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنانے کیلیے سات روز پہلے پہنچا تھا۔

اس نے یہ مشکل وقت فلپائن کے جنگلوں میں اغوا کاروں کی قید میں گذارا، اب کچھ ہی دیر میں وہ اپنے پیاروں کے پاس اردن پہنچنے والا ہے جہاں اپنوں کی چاہت اور محبت بازو پھیلائے بکر عطیانی کی منتظر ہے۔