.

اومان خلیجی تعاون کونسل کو خلیجی یونین بنانے کیخلاف

چھ مالک کی یونین بنانے کی تجویز سعودی عرب نے پیش کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اہم خلیجی ریاست اومان نے خلیج تعاون کونسل کے چھ ملکوں کو یورپی یونین کی طرز پر خلیجی یونین میں تبدیل کرنے کی مخالفت کر دی ہے۔ اومان کے وزیر خارجہ کے مطابق چھ ملکی یونین کا تصور سب سے پہلے عرب دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔

واضح رہے منگل کے روز خلیج تعاون کونسل کے متوقع سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں اس معاملے پر بحث کو شامل کیا گی ہے۔ یہ اجلاس کویت میں ہونے جارہا ہے۔

اومان کے وزیر خارجہ یوسف بن علاوی نے بحرین میں اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا '' ہم ایک یونین کے خلاف ہیں۔'' واضح رہے بحرین میں سلامتی کے ایشو پر جاری سالانہ مکالمے میں امریکی وزیر دفاع چک ہیگل اوربرطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ بھی شریک ہیں۔

اومانی وزیر خارجہ نے یہ بات سعودی نائب وزیر خارجہ نظار المدنی کی تقریر کے بعد اپنی تقریر میں کہی۔ یوسف العلاوی کا بعد ازاں ایک عالمی خبر رساں ادارے سے کہنا تھا" ہم یونین سازی کو روکیں گے، اگر اس کی تشکیل روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو اس کی رکنیت اختیار نہیں کریں گے۔''

مجوزہ خلیجی یونین کے دیگر پانچ ارکان میں سعودی عرب، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہوں گے۔ سعودی عرب نے خلیجی تعاون کونسل کو چھ مملکتی یونین میں تبدیل کرنے کی تجویز 2011 میں بحرین کی حمایت سے پیش کی تھی۔ کویت اور قطر شروع سے ہی اس تجویز کے حامی ہیں۔ البتہ متحدہ عرب امارات کی اس بارے میں پوزیشن سامنے نہیں آئی ہے۔

اومان عرب ملکوں کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بھی اومان کے سلطان قابوس نے امریکا کے ساتھ ایران کے معاملات کی بہتری کیلیے کردار ادا کیا ہے۔