.

خلیجی ممالک: پینتیس ہزار امریکی فوجی موجود رہیں گے، چک ہیگل

جنگی اسلحہ موجود رہے گا، عرب خطے میں امریکی تاریخ پر فخر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے عرب دنیا کے پارٹنرز کو یقین دلایا ہے کہ ایران سے جوہری معاہدے کے باوجود خطے میں 35 ہزار سے زائد امریکی فوجی آئندہ بھی موجود رہیں گے۔ العربیہ نے یہ بات سلامتی سے متعلق کانفرنس میں چک ہیگل کی تقریر کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں موقف اختیار کیا ہے کہ '' اس خطے کے حوالے سے ہماری تاریخ طویل اور قابل فخر ہے، اپنے شراکت داروں کے ساتھ ہماری کمٹمنٹس اس حوالے سے عملی مثال ہیں،اس لیے میں اپنے پارٹنرز کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کہیں نہیں جا رہے ہم یہیں پر ہیں۔''

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا '' یہ علاقہ خطرناکی کے اعتبار سے ایک آتش فشاں پر کھڑا ایک غیر مستحکم علاقہ ہے، اس لیے اس علاقے میں امریکی موجودگی ہمارے اتحادیوں کواطمینان دلانے کیلیے ضروری ہے۔''

امریکی وزیر دفاع نے کہا '' ہم علاقے میں اپنی فوج کی موجودگی کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں کر رہے ہیں، حتی کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران دنیا کے کسی حصے میں اس طرح کی کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔'' چک ہیگل نے یہ بات ایران کے ساتھ ہونے والی جوہری معاہدے سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر بطور خاص کہی۔

امریکی سلامتی کے حوالے ذمہ دار ترین شخصیت کا کہنا تھا '' اس خطے میں مضبوط فوجی اثاثہ جات میں بھی کسی قسم کی کمی یا تبدیلی نہیں کرنے جارہے ہیں، یہ اثاثہ جات بھی رہیں گے اور پہلے کی طرح مشقیں بھی جاری رہیں گی، اسی طرح خطے میں اپنے تذویراتی اہداف کے حوالے سے ہماری دلچسپی میں بھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔''

چک ہیگل نے ہفتے کے روز یہ بھی کہا کہ ''ایران کے ساتھ سفارتی معاملے کیلیے بھی فوجی طاقت کا موجود ہونا ضروری ہے۔''

مرکز برائے بین الاقوامی تذویراتی مطالعہ میں مشرق وسطی کے شعبے کے ڈائریکٹر جان آلٹرمین کا اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا'' خلیجی ممالک کے رہنما سمجھتے ہیں کہ عرب دوست امریکی پالیسی کے حوالے سے گہری تشویش کا شکار ہیں اور وہ سمجھتے ہیں امریکی انتظامیہ میں ایسا کوئی نہیں ہے جو سننے کو تیار ہو۔'' انہوں نے مزید کہا '' مشرق وسطی میں کافی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اوباما یا ان کی انتظامیہ سے روابط نہیں ہیں۔''

آلٹر مین نے کہا آج ہفتے کے روز چک ہیگل کی سلامتی کانفرنس میں تقریر اسی مقصد کی خاطر ڈیزائن کی گئی تھی کی مشرق وسطی کے ممالک کو یقین دہانی کرائی جا سکے۔ اس تقریرکے عرب دینا کے دفاعی امور سے متعلق اہم لوگ مخاطب ہیں۔ چک ہیگل نے اپنی اس تقریر سے ایک روز قبل منامہ میں موجود سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے ۔

واضح رہے امریکی کانگریس سعودی عرب کو ٹینک شکن میزائل فروخت کرنے پر آمادہ ہو چکی ہے ۔ اس سے خطے میں استحکام اور سلامتی سے متعلق مسائل کم ہوں گے۔