.

شام میں شیعہ ملیشیا کی خونی ہولی، خواتین کی شرمناک آبروریزی

عراقی شیعہ گروپ کی جانب سے قتل عام کی ویڈٰیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے "النبک" میں اسد نواز عراقی شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے سفاکانہ قتل عام اور خواتین کی آبروز ریزی کی اطلاعات ملی ہیں۔

شام کے ایک سماجی کارکن عامر القلمونی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک ویڈیو فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں 'الذوالفقار' نامی عراقی شیعہ گروپ کے ہاتھوں النبک شہر میں نہتے شہریوں کے سفاکانہ قتل عام اور خواتین کی آبرو ریزی کے شرمناک مظاہر دکھائے گئے ہیں۔

ویڈیو فوٹیج میں الذوالفقار کے اجرتی قاتل کو منیرعبدالحی نامی ایک شخص کو پکڑے دکھایا گیا ہے، جسے بعد ازاں نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کردیا جاتا ہے۔ قتل کرنے سے قبل اسے شدت پسند تنظیم کے مقامی مرکزمیں لایا جاتا ہے جہاں چاروں طرف تشدد زدہ لاشوں کی تصویریں آویزاں کی گئی ہیں۔ یہ تصویریں ان شہریوں کی ہیں جنہیں ایک ہفتہ قبل النبک شہر سے پکڑ کرغائب کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں تشدد کرکے ہلاک کیا گیا۔

سماجی کارکن القلمونی کا کہنا ہے کہ النبک شہر گذشتہ کئی ہفتوں سے سرکاری فوج کے گماشتوں اور اجرتی قاتلوں کے ہاتھوں تاراج ہو رہا ہے۔ ایک ہفتہ قبل شہر کی الفتح کالونی میں عراقی شیعہ ملیشیا "الذوالفقار" نے معصوم شہریوں کے کشت خون اور خواتین کی عصمت ریزی کا ہولناک مظاہرہ کیا۔ کالونی میں لوٹ مار کے بعد لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

ایک ہفتہ قبل شام میں صدر بشارالاسد کی وفادارفوج، لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور الذولفقار گروپ کے غنڈوں نے الفتح کالونی پرمکمل قبضہ کرلیا تھا۔ شہرمیں ہونے والے کشت و خون کے باعث مقامی باشندوں کے ایک دوسرے سے رابطے بھی منقطع ہو گئے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ وہاں ہونے والی تباہ کاریوں کی تفصیلات منظرعام پر نہیں آ سکی ہیں۔ مسلسل چھ دن کی بمباری کے بعد معلوم ہوا کہ الفتح کالونی کے بیشتر خاندانوں کے تمام افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 35 افراد کو اسدی فوج کے اجرتی قاتلوں نے پکڑ کر گولیاں مار کر انہیں قتل کیا۔ ان میں خواتین، بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے۔

عامر القلمونی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ الفتح کالونی سے ملنے والے شہریوں کی بیشتر نعشیں مکمل طور پر جل چکی تھی جن کی شناخت نہیں ہوسکی اور کئی لاشیں مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے بری طرح جھلس گئی تھیں۔

ایک سوال کے جواب میں سماجی کارکن القلمونی نے بتایا کہ جب سے صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک اٹھی ہے۔ اس کے بعد سے سرکاری فوج اور ان کے حامی گماشتے شہریوں کی میتوں کی مسلسل بے حرمتی کرتے آئے ہیں۔ النبک شہر میں ہونے والا تازہ قتل عام اس کی واحد مثال نہیں ہے۔ ماضی میں ایسے خونریز واقعات کی دسیوں مثالیں موجود ہیں۔