.

مصر: مجوزہ دستور میں غلطیوں کی نشاندہی، صدر کی مشاورت

عدلی نے اصلاح کیلیے دستور ساز کمیٹی سے ابھی رابطہ نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے نئے مسودہ دستور میں سامنے آنے والی بعض غلطیوں پر مشاورت کی ہے، تاکہ مسودہ دستور کو عوامی ریفرنڈم میں منظوری کیلیے پیش کرنے سے پہلے یہ آئینی سقم دور کیے جا سکیں۔

اس مسودہ کو عبوری حکومت کی قائم کردہ 50 رکنی کمیٹی نے تیار کیا ہے۔ کمیٹی نے پچھلے ہفتے اس کی منظوری دے کر یہ مسودہ دستور عبوری صدر کے حوالے کیا تھا، جس کے بعد بعض سقم سامنے آئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سقم مسودے میں استعمال کیے گئے الفاظ کے حوالے سے سامنے آئَے ہیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عدلی منصور ان غلطیوں کی اصلاح کیلیے مسودہ دستور واپس اپنی نامزد دستور ساز کمیٹی کو بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔

واضح رہے عبوری حکومت آئندہ تیس دنوں کے دوران اس تجویز کیے گئے مسودہ آئین پرعوامی ریفرنڈم کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ریفرنڈم کے بعد عبوری حکومت کی جانب سے دیے گئے نقشہ کار کے مطابق پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہوں گے۔

آئینی مسودے کے مطابق صدر کو اپنے اثاثہ جات کی تفصیل ہر سال سامنے لانا ہوں گی، قانون ساز صدر کا انتخاب دو تہائی ووٹوں سے کریں گے نیز مذہبی بنیادوں پر قائم جماعتوں پر پابندی لگائی جائے گی۔

اسی مسودہ دستور میں مسلح افواج کی پسند کے وزیر دفاع کی تقرری لازم ہو گی۔ اس کے علاوہ اس وزیر دفاع کو مدت وزارت کے دوران کافی سارے استثنیٰ بھی حاصل ہوں گے۔