.

یمن خلیج تعاون کونسل کی رُکنیت کا خواہاں

صنعا کو القاعدہ کی دراندازی سمیت بہت سے خطرات کا سامنا ہے:وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب دنیا کا معاشی طور پر سب سے پسماندہ ملک یمن خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی رکنیت کا خواہاں ہے اور اس کے وزیرخارجہ ابوبکرالکربی کا کہنا ہے کہ صنعا کو گذشتہ سات سال کے دوران تنظیم کے اجلاسوں میں شرکت سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔

بحرین کے دارالحکومت منامہ منعقدہ علاقائی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر وزیرخارجہ ابو بکر الکربی نے کہا ہے کہ یمن نے جی سی سی میں شمولیت کا فیصلہ تنظیم کے چھے رکن ممالک کے عہدے داروں پر چھوڑدیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یمن کو بہت سے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ان میں ہارن آف افریقہ سے مہاجرین کی آمد کے علاوہ القاعدہ کی دراندازی سب سے نمایاں خطرات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو خلیج عدن میں مشرق اور مغرب کو ملانے والے اہم بحری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی مدد درکار ہے۔

منامہ ڈائیلاگ کے نام سے منعقدہ اس سکیورٹی کانفرنس میں اومان نے گذشتہ روز جی سی سی کو یورپی یونین کے طرز پر خلیج یونین بنانے کی مخالفت کی تھی۔اومانی وزیرخارجہ یوسف بن علاوی نے ہفتے کے روز منامہ ڈائیلاگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم خلیجی یونین کے خلاف ہیں''۔

سعودی عرب نے 2011ء میں جی سی سی کو ترقی دے کر خلیج یونین بنانے کی تجویز پیش کی تھی اور بحرین نے اس کی حمایت کی تھی۔تاہم بعض ممالک کی جانب سے اس پر تحفظات کے پیش نظر اس پر غورموخر کردیا گیا تھا۔اب کویت میں آیندہ منگل کو تنظیم کے اجلاس میں اس تجویز پر غور کیا جائے گا۔

خلیج تعاون کونسل میں سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،کویت ،قطر ،اومان اور بحرین شامل ہیں۔ان تمام ممالک کی کل آبادی قریباً چار کروڑ ستر لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور ان میں بھی قریباً نصف تعداد غیرملکی تارکین وطن کی ہے۔خلیجی ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے یہ تنظیم 1981ء میں قائم کی گئی تھی۔جی سی سی کے رکن ممالک دنیا کے خام تیل کے معلوم ذخائر کے 40 فی صد اور قدرتی گیس کے 25 فی صد ذخائر کےمالک ہیں۔