.

"ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات میں خلیج کو شامل کیا جائے"

یمن، خلیج تعاون کونسل میں جلد شمولیت کے لیے پرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ابوبکرالقربی نے امید ظاہر کی ہے کہ خلیج تعاون کونسل جلد ہی صنعاء کو کونسل کے تمام اداروں کی رکنیت دینے کا حتمی فیصلہ کرنے والی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سات سال سے یمن خلیج تعاون کونسل "جی سی سی" کے سربراہ اجلاس میں ایک غیر مستقل رکن کی حیثیت سے شرکت کرتا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صنعاء کو "جی سی سی " کی باضابطہ رکنیت دی جائے۔ اس ضمن میں جی سی سی جلد فیصلہ کرنے والی ہے۔

اپنے ایک بیان میں یمنی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یمن نے "جی سی سی" کی رکنیت کے لیے ہر سطح پر کوششیں کی ہیں۔ ایک غیر مستقل رکن ہونے کے باوجود صنعاء کو خلیجی ممالک کی جانب سے بھرپور تعاون ملتا رہا ہے۔ اب وہ امید رکھتے ہیں کہ خلیجی کونسل کے ممبر ممالک یمن کی باضابطہ طور پر شمولیت کا جلد فیصلہ کریں گے۔

ڈاکٹر ابوبکرالقربی کا کہنا تھا کہ یمن کو درپیش سیکیورٹی مسائل، ہزاروں افریقی پناہ گزینوں کے بوجھ اور القاعدہ کی سرگرمیوں کے باوجود خلیج تعاون کونسل کی "سیکیورٹی سربراہ" کانفرنس صنعاء میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے۔

ایران کے جوہری تنازع سے متعلق یمنی وزیر کا کہنا تھا کہ خلیجی ریاستوں سمیت جن ملکوں کو تہران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے خدشات ہیں انہیں جوہری مذکرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔