الازہر میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کو طاقت کے استعمال کی اجازت

تاریخی دانش گاہ کے طلبہ وطالبات کا منتخب صدر کی برطرفی کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی تاریخی دانش گاہ جامعہ الازہر کے چئیرمین اسامہ العبد نے سکیورٹی فورسز کو اخوان المسلمون کے حامی طلبہ کے مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کی اجازت دے دی ہے۔

انھوں نے مصری سکیورٹی فورسز کو یہ ہدایت قاہرہ پولیس کے سربراہ اسامہ الصغیر کے ساتھ سوموار کو ایک اجلاس کےبعد دی ہے۔پولیس سربراہ ان طلاعات کے بعد جامعہ قاہرہ گئے تھے کہ مشتعل طلبہ نے پولیس کی چار گاڑیوں کو نذرآتش کردیا ہے۔

مصر کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اخوان المسلمون کے کم سے کم دو سو طلبہ نے جامعہ الازہر کے باہر شاہراہوں کو بند کردیا اور انھوں نے شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی جانب پتھر اور پٹرول بم پھینکے ہیں۔

العربیہ نیوز کو ملنے والے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس فورس ہلاکتوں سے بچنے کے لیے مظاہروں سے نمٹنے میں بڑی احتیاط کا مظاہرہ کررہی ہے۔

درایں اثناء اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج کی قیادت میں پولیس فورس نے جامعہ الازہر کے طلبہ کی تطہیر کا عمل شروع کررکھا ہے اور ان کے خلاف طاقت کا سفاکانہ استعمال کیا جارہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''طلبہ مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے سفاکانہ اور ظالمانہ استعمال کے نتیجے میں ایک طالب علم کی ہلاکت ہوئی ہے اور ایک سو سے زیادہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن اس سے مصری عوام کو 25 جنوری انقلاب کے جذبے کی تجدید سے نہیں روکا جاسکتا''۔

مصر کی مسلح افواج کےتحت عبوری حکومت نے حال ہی میں حکومت مخالفین کے مظاہروں کی روک تھام کے لیے ایک متنازعہ قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت کسی بھی قسم کے اجتماع اور ریلی کی حکومت سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے لیکن اس قانون کے نفاذ کے باوجود قاہرہ اور دوسرے شہروں میں اخوان المسلمون کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

خاص طور پر جامعہ الازہر کے طلبہ اور طالبات 3 جولائی کے فوجی اقدام کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

حکومت نے قاہرہ کے معروف چوکوں اور چوراہوں، میدان التحریر ،رابعہ العدویہ اور النہضہ اسکوائر میں مظاہرین کو ریلیاں نکالنے سے روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کررکھی ہے۔

مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کی کریک ڈاؤن کارروائیوں میں اخوان المسلمون اور دوسری جمہوریت پسند جماعتوں کے ایک ہزار سے زیادہ کارکنان مارے جاچکے ہیں اوراس وقت دو ڈھائی ہزار مختلف الزامات کے تحت پابند سلاسل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں