ایران پر نہیں جوہری مانیٹرنگ پر بھروسہ کرینگے: وینڈی شرمین

ہمیشہ عرب دوستوں کے ساتھ رہیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان آج پیر کے روز ویانا میں شروع ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکا کی طرف سے ایرانی جوہری تنصیبات تک زیادہ سے زیادہ رسائی اور مانیٹرنگ کو ممکن بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ امریکا کی اعلی سفارتکار وینڈی شرمین جو جنیوا میں جوہری تنازعے کا حصہ رہی ہیں کے بقول '' امریکا کو ایرانی جوہری پروگرام کی بن بلائے اور بلا اجازت انداز کی مانیٹرنگ پر بھروسہ کرنا ہو گا۔''

ویانا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں میں چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے جوہری ماہرین کے درمیان ابتدائی معاہدے پر عمل درآمد اور مانیٹرنگ کے سوال پر اتفاق رائے پیدا کیا جانا ہے۔

وینڈی شرمین کا العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا '' امریکا اور ایران کے درمیان عشروں پر پھیلی عدم اعتماد کی فضا کی موجودگی میں امریکا کیلیے ایک ہی راستہ ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کی مانیٹرنگ اور تصدیق پر بھروسہ کرے۔'' ان کا مزید کہنا تھا '' ہمیں ایران پر بھروسہ کرنے کے بجائے ایرانی جوہری پروگرام کی بلا اجازت طرز کی مانیٹرنگ پر بھروسہ کرنا ہو گا۔'' وینڈی شرمین نے یہ بھی کہا'' ایسی مانیٹرنگ کا ہمیں پہلے ہی مرحلے پر اہتمام کرنا ہو گا۔''

واضح رہے اس جوہری مانیٹرنگ کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود تر کرنا اور تنصیبات کو مسلسل زیر معائنہ رکھنا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں وینڈی شرمین نے کہا '' ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے پہلے اور بعد میں ہر مرحلے پر امریکا اپنے عرب دوستوں کے ساتھ ہو گا، لیکن ایران کیساتھ چھ طاقتوں کے مذاکرات کا بنیادی موضوع ایک ہی ہے ایرانی جوہری پروگرام کو کیسے روکا جائے۔''

ایران پر سے اٹھائی جانے والی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے وینڈی شرمین نے کہا '' محض چند پابندیاں اٹھائیں جائیں گی اور ایران کے منجمد کیے گئے 100 ارب ڈالروں میں سے ایران کو صرف چند فیصد واپس ملیں گے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں