جامعہ ازھر نے حکومت مخالف 700 طلباء کے اخراج کی تردید کر دی

'237 طلباء کے نام اصلاح کی خاطر تادیبی کونسلوں کو بھجوائے گئے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی سب سے بڑی علمی درسگاہ جامعہ الازھر نے جامعہ کے زیر انتظام مختلف کالجوں سے حکومت کے خلاف پرتشدد احتجاج میں حصہ لینے والے 700 طلباء کو فارغ کیے جانے سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعہ الازھر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ذرائع ابلاغ میں سات سو طلباء طالبات کے اخراج سے متعلق خبریں قطعی بے بنیاد ہیں۔ میڈیا کو خبر نشر کرنے سے قبل اس کی پوری طرح چھان بین کر لینی چاہیے۔ کسی مستند ادارے پر ایسے الزامات عائد کرنا دانشمندی نہیں۔ اس طرح کی خبریں اچھالنے سے خود ذرائع ابلاغ کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ تاریخی درسگاہ سے ملحقہ بعض کالجوں کے 237 طلباء طالبات کو پرتشدد مظاہروں میں حصہ لینے، تعلیمی نظام میں خلل ڈالنے اور تخریبی کارروائیوں کا حصہ بننے کے باعث انہیں تادیبی اور اصلاحی مراکزمیں منتقل کیا گیا ہے، جنہیں اصلاح اور سرزنش کے بعد دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کر دیا جائے گا۔

درایں اثناء جامعہ الازھر کے چیئرمین ڈاکٹراسامہ العبد کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز جامعہ کے گرلز سیکشن میں طلباء نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی تھی جس کی پاداش میں 15 طالبات اور تین طلباء کو تادیبی مراکز میں منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مصر میں فوجی حکومت کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرتے ہوئے ملک کی بڑی جامعات تک جا پہنچا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے شیوخ کی مبینہ حکومت نوازی کے باعث طلباء میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلباء کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ گذشتہ روز مصری اور عرب ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ جامعہ الازھر نے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے سات سو طلباء کو نکال دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں