حزب اللہ کا کمانڈر شام میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک

اہالیاں جنوبی لبنان نے شیعہ ملیشیا کے دو اور جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا ایک اعلیٰ کمانڈر شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے دوران ہلاک ہوگیا ہے۔

لبنان کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ حزب اللہ کا اعلیٰ فوجی کمانڈر علی بزی لڑائی والے علاقے میں مارا گیا ہے لیکن اس ذریعے نے محاذ جنگ کی وضاحت نہیں کی۔

اس سے پہلے برطانیہ میں قائم شامی آبزویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی تھی کہ حزب اللہ کا کمانڈر باغی جنگجوؤں کے زیر قبضہ علاقے النبک میں جھڑپوں کے دوران مارا گیا ہے۔ شام کا یہ علاقہ لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

شامی آبزرویٹری کے بیان کے مطابق النبک میں سرکاری فورسز کی القاعدہ سے وابستہ تنظیم ریاست اسلامی عراق وشام اور النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کے ساتھ خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں۔شامی فوج کو لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد حاصل ہے اور اس کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں سے لڑرہے ہیں۔

علی بزی کے جنوبی لبنان میں واقع آبائی شہر بنت جبیل کی ویب سائٹ نے بھی ان کی موت کا اعلان کیا ہے اور ان کی فوجی وردی میں ملبوس تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ان میں انھوں نے خودکار رائفل پکڑ رکھی ہے۔اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ ''علی حسین نے جہادی کے طور پر اپنا مقدس فریضہ انجام دیتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیا ہے''۔

درایں اثناء جنوبی لبنان سے تعلق رکھنے والے مکینوں نے بتایا ہے کہ شام میں لڑائی کے دوران حزب اللہ کے دواور جنگجو علی صالح اور قاسم غلموش بھی اتوار کو مارے گئے ہیں اور ان کی تدفین کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ اپنے جنگجوؤں کی شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑائی کی حمایت کرتے چلے آرہے ہیں اور انھوں نے گذشتہ منگل کو ایک لبنانی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ ''شام میں حزب اللہ کے جنگجو لبنان کو القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں سے بچانے کے لیے لڑرہے ہیں''۔

اس انٹرویو کے چند گھنٹے کے بعد حزب اللہ نے بیروت کے نواح میں اپنے ایک کمانڈر کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اور اسرائیل پر ان کے قتل کا الزام عاید کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں