شامی باغیوں کی جہادی جنگجوؤں کے خلاف عوامی رابطہ مہم

صدراسد کی وفادار فوجوں کے خلاف جنگ آزما گروپوں میں خلیج مزید گہری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے اعتدال پسند باغیوں نے القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپوں کے مقابلے میں عوامی حمایت کے حصول کے لیے ایک سماجی رابطہ مہم شروع کی ہے۔

برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ میں سوموار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق باغی جنگجوؤں کی سپریم ملٹری کونسل کے ایک سینیر مشیر کا کہنا ہے:''ہم اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ ہمیں القاعدہ کے خلاف لڑائی کے لیے نہ صرف عسکری میدان میں ان کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ سماجی میدان میں بھی ان کا توڑ کرنا ہے''۔

اس مشیر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ''ہم اس محاذ پر اپنی کوششوں کو تیز کررہے ہیں''۔قبل ازیں جولائی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں نے عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک فیملی میلے کا انعقاد کیا تھا۔

شام کے انتہا پسند قراردیے جانے والی باغی گروپ النصرۃ محاذ اور عراق سے تعلق رکھنے والی القاعدہ سے وابستہ تنظیم ریاست اسلامی عراق وشام (آئی ایس آئی ایل )نے اس میلے کی ویڈیو بنا کر یوٹیوب پر پوسٹ کی تھی۔

آئی ایس آئی ایل نے گذشتہ ایک سال کے دوران اپنے زیرقبضہ علاقوں میں مختلف فیملی فن میلوں کا انعقاد کیا ہے۔اس دوران اس نے غذائی بحران کا شکار علاقوں میں شہریوں میں خوراک بھی تقسیم کی ہے۔اس نے زیرقبضہ علاقوں میں اپنے اسکول اور عدالتیں قائم کررکھی ہیں۔اس طرح وہ ان علاقوں میں قدم جمانے میں کامیاب رہی ہے۔

تاہم باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل سپریم ملٹری کونسل کے مشیر کا کہنا تھا کہ لوگ ریاست اسلامی عراق وشام کو پسند نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کے انتہا پسندانہ عقائد شامی عوام سے لگا نہیں کھاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شامی عوام انتہا پسند گروپوں کی جانب سے دی جانے والی امداد کو اس لیے بھی قبول کررہے ہیں کیونکہ انھیں اس وقت ایسی امداد کی ضرورت ہے اور وہ نامساعد حالات میں اس امداد سے انکار نہیں کرسکتے۔

ان مشیر صاحب نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے مقابلے میں اپنی بے بسی کا یوں اظہار کیا ہے کہ شامی عوام کی امداد کے لیے ان کی کوششوں کو اکثر آئی ایس آئی ایل کے جنگجو ہائی جیک کرلیتے ہیں اور پھر وہ خود ہی اس امداد کو تقسیم کرتے ہیں۔

لیکن شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیموں یا اس کے جنگجوؤں کے سماجی میدان میں مقابلے کے لیے استنبول میں قائم شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کررہی ہے جس کی وجہ سے اس کو شام کے اندر کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ہے اور نہ وہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوجوں کے خلاف محاذ آراء باغی جنگجوؤں کی اسلحی یا مالی امداد کررہی ہے۔چنانچہ اس صورت حال کا فائدہ القاعدہ سے وابستہ تنظیمیں اٹھا رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں