قاہرہ: پولیس کا احتجاج، مظاہرین وزارت داخلہ تک جانا چاہتے تھے

پولیس نے پہلی بار احتجاج کیا، مرسی کے حامیوں پر آنسو گیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے دارالحکومت میں کئی ماہ سے جاری عوامی احتجاج کے بعد خود سینکڑوں پولیس اہلکار بھی سڑکوں احتجاج کرتے ہوئے نکل آئے۔ سینکڑوں پولیس اہلکار اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رے تھے اور اپنے مطالبے کے حق میں وزارت داخلہ تک جانا چاہتے تھے۔

پولیس اہلکاروں کی جانب سے احتجاج کا یہ خوفناک اشارہ اس وقت سامنے آیا ہے جب احتجاج روکنے کیلیے متعارف کرائے گئے قانون کیخاف سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔

تقریبا دو سو نان کمیشنڈ افسروں کو ایک پولیس کلب میں احتجاج کی اجازت دی گئی تھی۔ جہاں ان کا مطالبہ تھا کہ اعلی پولیس افسران ان کے ساتھ بات چیت کریں، تاہم پولیس اہکاروں کے احتجاج کو پھیلنے سے روکنے کیلیے پولیس کلب کے باہر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئِیں۔

جب ان پولیس اہکاروں کو اپنے سینئیرز کی طرف سے کوئِی ریسپانس نہ ملا تو احتجاجی پولیس اہکاروں نے نئے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزارت داخلہ کی جانب مارچ شروع کر دیا۔ پولیس مظاہرین نے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو اپنے ساتھی سکیورٹی اہلکاروں کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔

دریں اثناء سکیورٹی فورسز نے جامعہ الازہر کے باہر معزول صدر مرسی حامیوں پر آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔ ایسے ہی واقعات منصورہ یونیورسٹی کے باہر بھی پیش آئے ہیں۔

تاہم ابھی پولیس اہلکاروں کے اپنے احتجاج کے حوالے سے سکیورٹی حکام کی جانب سے کوئی اقدام سامنے نہیں آیا ہے۔ قاہرہ کی تاریخ میں پولیس کا احتجاج ایک منفرد واقعہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں